تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ منظم ہو رہی ہے، امریکی حکام
مرکز افغانستان کے شمالی صوبے اور پاکستان کے قبائلی علاقے ہیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 3 رجب 1441هـ - 27 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 27 ربیع الثانی 1435هـ - 28 فروری 2014م KSA 12:49 - GMT 09:49
افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ منظم ہو رہی ہے، امریکی حکام
مرکز افغانستان کے شمالی صوبے اور پاکستان کے قبائلی علاقے ہیں
واشنگٹن - العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے لیڈر ایک مرتبہ پھر اپنے نیٹ ورک کو متحرک کرنے کی کوشش میں ہیں تاکہ امریکی اور نیٹو فورسز کے انخلاء کے بعد اپنی جنگ دوبارہ شروع کر سکیں۔

حکام کے مطابق یہ وجہ ہے کہ اوباما انتظامیہ اس امر آمادہ ہوئی ہے کہ انخلاء کے بعد بھی فورسز کا کچھ حصہ افغانستان میں رکھ کر رد ہشت گردی کی مہم جاری رہ سکے۔ کانگریس کی انٹیلیجنس کے امور کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کے سربراہ مائیک راجر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ''القاعدہ کے ارکان کی افغانستان میں معقول تعداد سامنے آئی ہے لیکن یہ تعداد چند سو سے زیادہ نہیں ہے۔''

مائیک راجر نے کہا '' ان میں سے زیادہ تر القاعدہ ارکان اس انتظار میں ہیں کہ 2014 میں امریکا کی ساری افواج افغانستان سے نکل جائیں، جبکہ اوباما انتطامیہ 31 دسمبر تک اپنا جنگی مشن مکمل کرنے کے بعد بھی دس ہزار کی تعداد میں فوجیوں کو افغانستان میں موجود رکھنے کی خواہش مند ہے۔''

تاہم یہ امریکی آرزو پوری ہونے کیلیے افغان حکومت کے ساتھ امریکا کو ایک معاہدہ کرنا ہوگا جس پر ابھی افغان صدر حامد کرزئی آمادہ نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے صدر اوباما نے حامد کرزئی حکومت کو انتباہ کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا اپنے تمام فوجیوں کو نکال لے گا۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ساتھ اسی ہفتے میں ہونے والے اپنی بات چیت کے بعد اوباما نے پینٹا گان کو حکم دے دیا ہے کہ '' زیرو آپشن '' کی تیاری کی جائے۔ مائیک راجر کہ اس بارے میں کہنا ہے کہ اگر ہم واقعی زیرو آپشن کی طرف چلے گئے اور امریکا کا مکمل انخلاء ہو گیا تو افغانستان میں میں کوئی خصوصی دستہ یا آپریشن ممکن نہ ہوگا، جبکہ القاعدہ کا امکانی خطرہ موجود ہوگا۔''

اس حوالے سے امریکی سپیشل آپریشنز کمانڈ کے نگران ایڈمرل ولیم میکراون نے خبردار کیا ہے۔ واضح رہے ایڈمرل ولیم میکراون مئی 2011 میں پاکستان کے اہم عسکری شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن آپریشن کی نگرانی کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے دوبارہ منظم ہونے کا امکان افغانستان کے شمالی صوبوں کنہڑ، نورستان کے علاوہ پاکسان کے قبائلی علاقوں میں ہوسکتا ہے۔ اس مقصد کیلیے القاعدہ کے رہنما فاروق القہتانی القطری نئے مجاہدین کی تنظیم کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا نے شمالی افغانستان میں ڈرون حملے بڑھا دیے ہیں، تاکہ اس خطرے کو ابھرنے نہ دیا جائے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند