تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
"کابل ہوٹل حملے میں غیر ملکی خفیہ سروس ملوث تھی"
حملے سے طالبان اور حقانی گروپ دونوں لا علم تھے: ایوان صدر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: پیر 22 جمادی الاول 1435هـ - 24 مارچ 2014م KSA 10:31 - GMT 07:31
"کابل ہوٹل حملے میں غیر ملکی خفیہ سروس ملوث تھی"
حملے سے طالبان اور حقانی گروپ دونوں لا علم تھے: ایوان صدر
العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو، ایجنسیاں

افغانستان کے دارلحکومت کابل میں گذشتہ دنوں میں ایک ہوٹل پر ہونے والے حملے میں عسکریت پسند نہیں بلکہ ایک غیر ملکی خفیہ سروس ملوث تھی۔ اس امر کا انکشاف افغان صدر حامد کرزئی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس حملے میں دو بچوں اور چار غیر ملکیوں سمیت نو افراد مارے گئے تھے۔

افغان ایوان صدر کے بقول یہ بیان ملکی خفیہ ایجنسی کی جانب سے مہیا کردہ معلومات کی بنیاد پر سامنے آیا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کے روز کابل میں سیرینا ہوٹل پر ہونے والے حملے سے متعلق ملکی خفیہ ایجنسی نے کابل حکومت کے سلامتی امور کے اعلیٰ عہدیداروں کو بریفنگ دی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملکی خفیہ ایجنسی کے مطابق یہ حملہ ایک غیر ملکی خفیہ سروس نے براہ راست کیا۔

بیان میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں کون سے ملک کی خفیہ سروس ملوث تھی، تاہم افغان حکومت تواتر کے ساتھ اسلام آباد حکومت اور بالخصوص فوجی خفیہ ایجنسی 'آئی ایس آئی'  پر ایسے الزامات عائد کرتی رہتی ہے کہ وہ اپنے ملک سے عسکریت پسندوں کو افغانستان میں حملوں کے لیے بھیجتی ہے۔ فی الحال افغان صدارتی دفتر کے اس بیان پر اسلام آباد حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق اس حملے میں نہ تو کرزئی مخالف حقانی گروپ ملوث تھا اور نہ ہی طالبان، بلکہ اس حملے سے متعلق یہ دونوں گروپ مکمل بے خبر تھے۔

افغان نیشنل سکیورٹی کونسل کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس حملے سے کچھ روز قبل ایک پاکستانی سفارت کار کو سیرینا ہوٹل کے اندر فلم بندی کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کو چار مسلح حملہ آوروں نے کس طرح اپنے جوتوں میں چھوٹے ہتھیار چھپا رکھے تھے، جنہیں انہوں نے اس حملے میں استعمال کیا اور ہوٹل کی سکیورٹی یہ ہتھیار انہیں ہوٹل کے اندر لے جانے سے نہ روک پائی۔ ان افراد نے ہوٹل کے اندر پہنچنے پر ریسٹورنٹ میں عام افراد کو پوائنٹ بلینک رینج سے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ فائرنگ کی وجہ سے ریسٹورنٹ میں بھگدڑ مچ گئی، جس کی وجہ سے خبر رساں ادارے اے ایف پی کا ایک مقامی رپورٹر سردار خان بھی جاں بحق ہو گیا، جبکہ ان کا نومولود بیٹا اس وقت تشویشناک صورتحال میں ہسپتال میں ہے۔ اس کے علاوہ مارے جانے والوں میں دو بچوں کے ساتھ ساتھ دو کینیڈین اور ایک امریکی شہری بھی شامل تھے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند