#برطانیہ میں اسرائیلی طیارے کی تباہی کا منصوبہ کیوں بنا؟
1986ء میں پیش آئے واقعے کی تفصیلات منظرعام پر آ گئیں
برطانیہ کے بین الاقوامی ہوائے اڈے 'ہیتھرو' میں #اسرائیل کے ایک مسافر بردار طیارے کوسنہ 1986ء کو بم دھماکے سے اڑانے کی ناکام منصوبہ بندی کی تازہ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ #فلسطین کے سابق سفیر عاطف ابوبکر نے انکشاف کیا ہے کہ 1986ء کو ہیتھرو ایئر پورٹ پر اسرائیل کےایک ہوائی جہاز کو بم دھماکے سے تباہ کرنے کی اسکیم تحریک' #الفتح' کی انقلابی کونسل کے ایک سرکردہ رہ نما صبری البنا المعرف ابو نضال نے تیار کی تھی جس کا مقصد اسرائیلیوں کے ہاتھوں #شام کے ایک نجی طیارے کو برطانیہ میں اغواء کرنے کے واقعے کا انتقام لینا تھا۔
عاطف ابوبکر نے ان خیالات کا ظہار "#العربیہ" پر نشر ہونے والے پروگرام "سیاسی ڈائری" میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلیوں نے لیبیا سے آنے والے ایک طیارے کو ہیتھرو ہوائی اڈے پر اغواء کرلیا تھا۔ صہیونی خفیہ ادارے "#موساد" کے ایجنٹوں کا خیال تھا کہ طیارے میں عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جارج حبش سوار ہیں۔ اگرچہ طیارے کو جلد ہی بازیاب بھی کرالیا گیا مگر شامی حکومت نے اس واقعے کو اپنی "توہین" سمجھا اور اس کے انتقام لینے کی ٹھانی تھی۔
اس موقع پر "تحریک فتح" کی انقلابی کونسل کے سیکرٹری جنرل صبری البنا المعروف #ابو_ نضال نے ہیتھرو ہوائی اڈے پر اسرائیل کا طیارہ بم دھماکے سے تباہ کرنے تجویز پیش کی اور ساتھ ہی اس کارروائی پرعمل درآمد میں تعاون کی بھی یقین دہانی کرائی تھی۔ ابو نضال کا کہنا تھا کہ کارروائی کامیاب رہتی ہے یا ناکام ہوتی ہے۔ دونوں صورتوں میں میں خود اس کے ذمہ دار ہوں گا۔
اسرائیل کے ہوائی جہاز کو بم دھماکے سے تباہ کرنے کی اسکیم ناکام رہی تھی۔ اس ناکامی کے بارے میں بات کرتے ہوئے سابق فلسطینی سفیر نے کہا کہ میرے خیال میں اس کارروائی کی ناکامی کی وجہ فتح کے ایک "ڈبل ایجنٹ" کا کردار ادا کرنے والے نزار الھنداوی کو اس کا علم ہونا تھا۔ الھندای کے مبینہ طور پر اسرائیل کے خفیہ ادارے "موساد" کے ساتھ بھی روابط تھے۔ نیز نزار الھنداوی دوستوں اور دشمنوں سب کے ساتھ وفاداری کرنے والا شخص تھا۔ اس کے والد اردنی سفارت خانے میں باورچی رہ چکے تھے۔ ان کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ "موساد" کے ایجنٹ تھے۔ اسرائیل تک یہ خبر نزار الہنداوی کے ذریعے ہی پہنچی اور بنا بنایا منصوبہ ناکام ہوگیا تھا۔
ہیتھرو ہوائی اڈے پر اسرائیل کے ہوائی جہاز کو بم دھماکے سے تباہ کرنے کی اسکیم کی ناکامی کے بعد یہ بحث چل نکلی کہ اگریہ کارروائی کامیاب ہوجاتی تو دمشق کی خیر نہ تھی۔ شام کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑتے۔
عاطف ابو بکر نے بتایا کہ میں نے تحریک فتح کے ایک مرکزی رہ نما کی زبانی یہ سُنا کہ ابو نضال ہر صورت میں اسرائیلیوں سے انتقام لینے کی ٹھان چکے تھے، لیکن ان کا مقصد یہ تھا کہ اسرائیل دمشق میں داخل ہونے کی کوشش کرے تو اسے سبق سکھایا جاسکے۔ لیکن ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آیا ابو نضال شامیوں کو ایسے سنگین خطرے میں کیوں ڈالنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کیوں کر پہلے اسرائیلی ہوائی جہاز کو تباہ کرنے کی تجویز پیش کی پھر اسے واپس لے لیا۔ عاطف ابو بکر نے بتایا کہ مُجھے ایک فتحاوی لیڈر نے بتایا کہ ابو نضال نے ایک شخص کو عرب ممالک سے باہر بھیجا ہے اور اسے کہا ہے کہ وہ یا تو ہیتھرو ہوائی اڈے پر پہنچ کر اسرائیل کے ایک جہاز کو بم دھماکے سے تباہ کردے یا اس کارروائی کے بارے میں موساد کوخبر پہنچا دے۔
-
تل ابیب میں ایرانی سفارت خانے کا علامتی بینر لہرا دیا گیا
'ہم جلد ہی اسرائیل میں اسرائیلی سفارت خانے کے قیام کا اعلان کریں گے'
بين الاقوامى -
شامی علاقے پر اسرائیلی فضائی حملے میں پانچ افراد ہلاک
اسرائیلی فوج نے گولان کی چوٹیوں کے شام کی عمل داری والے علاقے پر ایک فضائی حملہ ...
مشرق وسطی -
لبنانی سرحد کے قریب اسرائیلی قصبے پر شام سے راکٹ حملہ
اسرائیلی فوج اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جنگ سے تباہ حال شامی علاقے سے داغے جانے ...
مشرق وسطی