تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تصویر جس نے اسرائیل کو پریشان کردیا!
اسرائیلی مداخلت سے پیرس میں ہونے والی نیلامی منسوخ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 20 ذوالحجہ 1440هـ - 22 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 4 ربیع الثانی 1437هـ - 15 جنوری 2016م KSA 16:46 - GMT 13:46
تصویر جس نے اسرائیل کو پریشان کردیا!
اسرائیلی مداخلت سے پیرس میں ہونے والی نیلامی منسوخ
پیرس ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

دُنیا میں کہیں بھی فلسطینیوں کی حمایت میں کوئی تقریب یا سرگرمی ہو اور #اسرائیل اسے ناکام بنانے کے لیے ’پنگا‘ نہ لے یہ ممکن نہیں۔ آئے روز اس کی مثالیں منظرعام پر آتی رہتی ہیں۔ اس کی تازہ مثال حال ہی میں اس وقت دیکھی گئی ہے جب #فرانس میں قائم اسرائیلی سفارت خانے نے #پیرس میں ہونے والی خیراتی نوعیت کی #نیلامی میں پیش کردہ ایک پورٹریٹ کو بولی کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فرانسیسی اخبار ’’لیبراسیون‘‘ اور ’’رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘‘ نے بتایا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی سفارت خانے کا وہ مطالبہ مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ 27 جنوری کو پیرس میں ہونے والی نیلامی میں ارنسٹ نامی مصوکی تیار کردہ ایک تصویر کو نیلامی کی فہرست سے نکالیں۔ اخبار اور صحافتی تنظیم کا کہنا ہے کہ نیلامی کے میزبان ادارے ’’دار اریکٹورال‘‘نے اسرائیلی دباؤ میں آکر مطالبہ ماننے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد نیلامی ملتوی کردی گئی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے نیلامی روکنے کے مطالبے کی بنیادی وجہ #یاسر_عرفات کی وفات کے بعد ان کی ایک تصویر بنی ہے جو سنہ 2004ء میں اخبار ’’لیبراسیون‘‘ کے صفحہ اول پر شائع ہوئی تھی۔ اس تصویر میں فلسطینی ’’کوفیہ‘‘ [گلوبند] دکھایا گیا جس کے نیچےاستفسار کے انداز میں ’’اب کیا ہوگا؟‘‘ کے الفاظ درج تھے۔

بعد ازاں اخبار نے فرانسیسی آرٹسٹ ’’ارنسٹ بینیون ارنسٹ‘‘ کی تیار کردہ ایک تصویر بھی شائع کی تھی جس مصور نے فلسطینی کوفیہ کے ساتھ اسرائیل زندانوں میں پابند سلاسل فلسطینی لیڈر #مروان_البرغوثی کا خاکہ تیار کیا۔ مروان البرغوثی کا جنوبی افریقا کے آنجہانی لیڈر نیلسن منڈیلا کے ساتھ تقابل کیا گیا تھا۔ تصویر کے نیجے کیپشن میں ’’سنہ 1980ء میں جب میں نے منڈیلا کا خاکہ بنایا تو مجھے کہا گیا تھا کہ وہ دہشت گرد ہے‘‘ کے الفاظ تحریر کیے گئے۔

اسرائیلی سفارت خانے نے نیلسن منڈیلا اور مروان البرغوثی کی تصویر کا باہم تقابل کرنے کی شدید مذمت کی ہے اور ’’دار اریکٹورال‘‘ سے پُر زور مطالبہ کیا ہے وہ اس تصویر کو نیلامی میں شامل کرنے کا فیصلہ واپس لے۔

اسرائیلی سفارت خانے نے اپنے ایک ای میل پیغام میں کہا ہے کہ ’’نیلامی میں پیشی کے لیے رکھی گئی تصویر دہشت گردی کے پروگرام کی عکاسی کرتی ہے حالانکہ جس شخص کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ امن پسند تھا۔"

نیلامی کے میزبان ادارے نے اسرائیلی مطالبہ مسترد کردیا ہے مگر اخبار لیبراسیون اور صحافتی تنظیم ’’ رپورٹر ود آؤٹ بارڈرز‘‘ نے کہا ہے اگر مذکورہ تصویر کو نیلامی کے لیے پیش نہیں کیا جاتا ہے وہ بھی اس کا بائیکاٹ کردیں گے۔

دونوں اداروں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ ’’دار اریکٹورال‘‘ نے نیلامی کا فیصلہ ملتوی کردیا ہے۔ اب کسی نئی مقام پر یہ نیلامی ہوگی جس میں فلسطینی کوفیہ اور مروان البرغوثی والی تصویر کو بھی شامل کیا جائے گا۔

’’داراریکٹورال‘‘ کے ایک عہدیدار فرانسو تاجان کا کہنا ہے کہ ’’ملک میں چند ہفتے پیشر ہونے والی دہشت گردی، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات اور ایمرجنسی کے نفاذ میں توسیع کے بعد کسی متنازع تصویر کو نیلامی میں پیش کرنے پر اصرار کرنا عمومی نظام زندگی میں بے چینی پیدا کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔ اس لیے ہم نے نیلامی میں اسرائیل کے مطالبے کے مطابق ایک تصویر کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا مزید کہا تھا کہ تصویر کو نیلامی کے لیے شامل نہ کرنے کا فیصلہ کسی فن کار کے فن پارے کے ساتھ زیادتی نہیں ہے۔"

دوسری جانب ’’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں معلوم ہوا کہ نیلامی منسوخ کردی گئی ہے مگر ہم اس کا متبادل حل نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا کی قوت کو استعمال میں لائی گے اور تمام فن کاروں کے فن پاروں کو نیلامی میں شامل کرائیں گے۔ نیلامی کے انعقاد کے لیے ہماری یہ پہلی شرط ہوگی۔

فلسطینی لیڈر کا تصویری خاکہ تیار کرنے کے لیے فرانسیسی آرٹسٹ ارنسٹ نے بھی اسرائیلی سفارت خانے کے مطالبے پر نیلامی ملتوی کرنے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "میں اس بات پر حیران ہوں کہ ایک غیرملکی سفارت خانے کو اس بات کا فیصلہ کرنے کی کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ ہم نیلامی میں کیا پیش کریں اور کیا نہ کریں۔ نیلام گھر کےلیے بھی مناسب نہیں کہ وہ کسی غیرملکی سفارت خانے کے دباؤ میں آکر نیلامی منسوخ کردے۔"

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند