تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مذاکرات سے قبل تمام شرائط مانی جائیں: افغان طالبان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 14 ربیع الثانی 1437هـ - 25 جنوری 2016م KSA 11:53 - GMT 08:53
مذاکرات سے قبل تمام شرائط مانی جائیں: افغان طالبان
دوحہ میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر کی فائل فوٹو۔
دوحہ ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ کابل کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے لئے پہلے ان کا نام بین الاقوامی بلیک لسٹ سے نکالنے سمیت ان کی تمام شرائط مانی جائیں۔

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر میں ارکان پارلیمان اور دیگر افراد سے بات کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں بتایا کہ جب تک ان کی شرائط کو نہیں مانا جائے گا وہ مذاکرات میں حصہ نہیں لیں گے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ "کسی بھی باضابطہ مذاکرات سے قبل ہم اپنے مجاہدین کے ناموں کو اقوام متحدہ اور امریکی بلیک لسٹ سے خارج اور ان کے سروں پر لگی ہوئی قیمتوں کو منسوخ کروانا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم دوحہ میں اپنے سیاسی دفتر کو دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں۔"

طالبان نے جون 2013ء میں قطر میں اپنا سیاسی دفتر کھولا تھا تاکہ کسی ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار ہوسکے۔ مگر اس عمارت کو صرف ایک ماہ بعد ہی اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی نے بند کردیا گیا تھا۔

قطر میں موجود طالبان کے ارکان نے افغان وفد کے ساتھ ہفتے کے دن دو روزہ مذاکراتی عمل شروع کیا تھا تاکہ ایک بار پھر باضابطہ مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکے۔ اس دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر قطر میں طالبان کے ترجمان محمد نعیم کا کہنا تھا کہ مذاکرات مثبت رہے ہیں۔

انہوں نے عالمی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ "میں یہ بتا سکتا ہوں کہ کئی نکات پر اتفاق رائے ہوچکا ہے۔ سب سے پہلے غیر ملکی افواج کی افغانستان سے واپسی پر اتفاق ہوا ہے جس کے طریقہ کار پر ابھی بحث نہیں ہوئی ہے۔"

"اس کے علاوہ سب نے ایک علاحدہ اسلامی حکومت کے قیام اور امارت اسلامی [افغانستان] کے باقاعدہ نام کو اپنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔"

طالبان سے مذاکرات کی ذمہ دار حکومتی باڈی "اعلیٰ مذاکراتی کونسل" نے مسلح گروپ پر زور دیا ہے کہ وہ شرائط کو منوائے بغیر ہی مذاکرات کو شروع کردے۔

کمیٹی کے عہدیدار امین الدین مظفری کا کہنا تھا "کسی بھی شرط کے نتیجے میں مفاہمتی عمل مزید تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے۔"

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند