داعش میں شمولیت پر چار اماراتیوں کو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

متحدہ عرب امارات کی اعلیٰ عدالت نے چار اماراتیوں کو ان کی عدم موجودگی میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش میں شمولیت کے جُرم میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

دبئی سے شائع ہونے والے گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق ان چار اماراتیوں کی عمریں اٹھارہ سے انتیس سال کے درمیان ہیں اور وہ اس وقت شام میں داعش میں شامل ہو کر لڑرہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کی رپورٹ کے مطابق جج محمد الطنیجی کی سربراہی میں وفاقی عدالت عظمیٰ نے اس کیس کی سماعت کی ہے اور ان مجرموں کو پھانسی کی سزائیں سنائی ہیں۔عدالت نے سات اور مدعاعلیہان کو بھی داعش اور یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی حمایت کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائیں سنائی ہیں۔

عدالت کے جج نے ان میں سے تین مدعاعلیہان کو دس دس سال قید ،دو کو پانچ پانچ سال اور ایک کو تین سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔ایک ملزم کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا گیا ہے۔وام کے مطابق تمام مدعا علیہان اماراتی شہری ہیں یا پھر دوسرے خلیجی عرب ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان پر دہشت گرد تنظیم (داعش) میں شمولیت کے لیے ایک عرب ملک کا سفر کرنے اور وہاں اس کی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔مدعا علیہان پر یواے ای میں داعش کی ایک عوامی مقام پر سرگرمیوں کو فروغ دینے ،اس کے لیے فنڈز مہیا کرنے اور اس کے نظریات کی تشہیر کے لیے ایک ویب سائٹ چلانے،اماراتی ریاست کی شہرت داغدار کرنے اور ریاستی شعائر کو پامال کرنے کے الزامات بھی عاید کیے گئے تھے۔

درایں اثناء گلف نیوز نے یہ اطلاع دی ہے کہ عدالت نے دو یمنیوں اور ایک اومانی شہری کو حوثی باغیوں کے لیے رقوم جمع کرنے اور انھیں کیمیکلز اور مواصلاتی آلات سمیت دوسری اشیاء مہیا کرنے کے الزامات میں قصور وار قرار دیا ہے۔ابو ظبی میں قائم وفاقی عدالت عظمیٰ نے بین الاقوامی میڈیا کو ان مقدمات کی سماعت کے دوران کارروائی براہ راست رپورٹ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں