تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی ائیر لائنز کے فلیٹ میں مزید 63 مسافر طیارے شامل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 22 ذوالحجہ 1437هـ - 25 ستمبر 2016م KSA 20:24 - GMT 17:24
سعودی ائیر لائنز کے فلیٹ میں مزید 63 مسافر طیارے شامل
سعودی ائیر لائنز کا ایک مسافر طیارہ ہوائی اڈے پر اترتے ہوئے ۔ فائل تصویر
الریاض ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کے ٹرانسپورٹ کے وزیر سلیمان الہمدان نے قومی فضائی کمپنی کے موجودہ فلیٹ میں مزید تریسٹھ طیارے شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر یہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''نئے طیارے مسافروں کی حمل ونقل کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔وزارت نے اپنی خدمات میں توسیع اور ان کا معیار بہتر بنانے کا ایک تزویراتی منصوبہ وضع کیا ہے''۔

ذرائع کے مطابق نئے طیارے اندرون اور بیرون ملک پروازوں کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ٹرانسپورٹ کی وزارت نے سول ایوی ایشن کی جنرل اتھارٹی کے ذریعے مختلف شراکت داروں کے ساتھ ٹھیکے کیے ہیں تاکہ تزویراتی منصوبے کے تحت وضع کردہ مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔

سعودی ائیر لائنز کے ڈائریکٹر جنرل صالح الجسر نے بتایا ہے کہ جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے ذریعے تریسٹھ نئے طیاروں کی ملکیت حاصل کر لی گئی ہے اور ہمیں گذشتہ ماہ پندرہ بوئنگ 777-300 ای آر ،تیرہ بوئنگ 787 ڈریم لائنر اور 35 ائیربس نیو جنریشن اے 320/321 نئے طیارے مل گئے تھے۔

سعودی ائیر لائنز نے گذشتہ سال فرانسیسی کمپنی ائیربس کے ساتھ 50 اے 330 اور اے 320 طیاروں کی خریداری کے لیے سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔یہ سمجھوتا نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کے فرانس کے دورے کے موقع پر طے پایا تھا۔

صالح الجسر نے مزید بتایا ہے کہ ''سعودی ائیر لائنز نے اس سال اور گذشتہ سال جدید ٹیکنالوجی کے حامل کل ایک سو تیرہ نئے طیارے خرید کرنے کے لیے سمجھوتوں پر دستخط کیے تھے۔ان کے تحت فضائی کمپنی کو چار ماڈل بی 787-9 طیارے 2017ء میں ملیں گے''۔

سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی نے نئے جدید طیاروں کی خریداری کے علاوہ اپنے عملے کی تعلیمی لیاقت اور پیشہ ورانہ استعداد کار میں بھی اضافہ کیا ہے اور انھیں پیشہ ورانہ تعلیم دلوائی ہے۔نیز اس نے اپنی خدمات کے معیار کو بہتر بنایا ہے تاکہ مسابقت اس دور میں دوسری فضائی کمپنیوں کے مقابلے میں مسافروں اور معزز مہمانوں کو بہتر خدمات مہیا کی جاسکیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند