تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مصری نژاد کی میکسیکن کمپنی "ٹرمپ کی دیوار" روشن کرنے کی خواہش مند
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 ربیع الاول 1441هـ - 14 نومبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 19 جمادی الثانی 1438هـ - 18 مارچ 2017م KSA 14:34 - GMT 11:34
مصری نژاد کی میکسیکن کمپنی "ٹرمپ کی دیوار" روشن کرنے کی خواہش مند
لندن - كمال قبيسی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غیر قانونی ہجرت ، دراندازی اور منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے کے واسطے میکسیکو کے ساتھ جنوبی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دیوار کی تعمیر کے لیے ابھی تک اپنی خدمات پیش کرنے والی 640 کمپنیوں میں زیادہ تر امریکی کمپنیاں ہیں۔ بقیہ کمپنیوں میں ہسپانیہ ، جرمنی ، برطانیہ ، آئرلینڈ ، کینیڈا ، پورٹو ریکو اور جنوبی افریقہ کے علاوہ میکسیکو کی تین کمپنیاں شامل ہیں۔

میکسیکو کی تین کمپنیوں میںEcovelocity کمپنی بھی شامل ہے جس کا مالک ایک مصری نژاد امریکی "تھیوڈر نیکولس عطاء اللہ" ہے۔ یہ کمپنی کم لاگت میں لائٹنگ کرنے کے حوالے سے معروف ہے۔ اسی واسطے کمپنی نے میکسیکو کی جانب دیوار میں کم قیمت LED قُمقمے نصب کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جن کو وہ چین سے درآمد کرے گی۔

اکیسویں صدی میں کاروباری شخصیت کی تصویر نہیں

کمپنی کے مالک 58 سالہ عطاء اللہ کا باپ مصری اور ماں یونانی ہے۔ وہ گزشتہ 20 برس سے میکسیکو میں مقیم ہے۔ عطاء اللہ نے اپنی یہ کمپنی 2013 میں قائم کی تھی اور اس کا صدر دفتر میکسیکو کے مشرقی وسطی شہرPuebla میں ہے۔ ہسپانوی اخبارEl Pais نے اپنی جمعرات کی اشاعت میں بتایا ہے کہ عطاء اللہ کی کمپنی نے صرف میکسیکو کی جانب سے دیوار کو روشن کرنے کی پیش کش اس لیے کی ہے کیوں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ شرط عائد کر چکے ہیں کہ امریکی جانب دیوار کی تعمیر میں تمام تر ساز و سامان امریکا میں بنا ہونا چاہیے جب کہ عطاء اللہ کی کمپنی لائٹنگ کا سامان چین سے درآمد کرتی ہے۔

ہسپانوی اخبار نے مختصر ٹیلیفونک بات چیت کے بعد عطاء اللہ سے اُس کی تصویر طلب کی تاکہ اُسے انٹرویو کے ساتھ شائع کیا جا سکے تو عطاء اللہ نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اعلانیہ طور پر نمودار ہونے کی خواہش نہیں رکھتا۔ ایسا لگتا ہے کہEl Pais نے انٹرنیٹ پر اُس کی تصویر تلاش کی مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے ٹیلی کمیونی کیشن کے دور میں بھی اس کاروباری شخصیت کی کوئی تصویر نہ مل سکی۔ اس سلسلے میں العربیہ ڈاٹ نیٹ اور میکسیکو کے ایک معروف روزنامےExcelsior کی کوششیں بھی فائدہ مند ثابت نہ ہوئیں۔ مذکورہ اخبار کے مطابق میکسیکو کی جانب سے دیوار کی تعمیر میں شریک ہونے کے لیے جنوبی امریکا کی 60 کمپنیوں نے پیش کش کی ہے۔ امرکا میکسیکو سرحد پر یہ دیوار 3200 کلومیٹر تک پھیلی ہوگی۔

میکسیکو کے ذرائع ابلاغ میں عطاء اللہ کے متعلق انتہائی محدود معلومات کے مطابق وہ مصر میں پیدا ہوا۔ اُس نے زندگی کے چند برس امریکا میں مقیم رہ کر گزارے تاکہ وہاں کی شہریت حاصل کر سکے۔ بعد ازاں وہ میکسیکو منتقل ہو گیا۔ اس کی کمپنی کے ملازمین کی تعداد زیادہ نہیں۔ کمپنی ملک میں اپنے صوبے کے اندر ہی سرکاری ٹینڈروں کے ذریعے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے جن میں کمپنی کا انحصار اپنے پاس کام کرنے والے یومیہ اجرت کے کاری گروں پر ہوتا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند