لیبیا کے دوسرے شہر بنغازی سے تعلق رکھنے والے فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر کے زیر کمان قومی فوج کا ایک لڑاکا طیارہ اسلامی جنگجوؤں نےمشرقی شہر درنہ میں میزائل سے مار گرایاہے اور اس کے عملہ کے دو ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

لیبی قومی فوج کے ترجمان ناصر حاسی نے ہفتے کے روز ایک مِگ 21 لڑاکا طیارے کو ایک میزائل سے مارگرائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ان کے بہ قول اس لڑاکا طیارے نے تباہ ہونے سے چندے قبل ہی جنگجوؤں کے ٹھکانے پر بمباری کی تھی۔

بنغازی سے 348 کلومیٹر مشرق میں واقع شہر درنہ پر مختلف جنگجو گروپوں پر مشتمل اتحاد اور سابق مجاہدین شوریٰ کونسل کا کنٹرول ہے ۔خلیفہ حفتر کے زیر کمان فورسز نے اس شہر کا محاصرہ کررکھا ہے اور ان کے لڑاکا طیارے بھی وہاں گاہے گاہے جنگجو گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے رہتے ہیں۔

درنہ میں ان اسلامی جنگجو گروپوں نے اپنے مضبوط ٹھکانے بنا رکھے ہیں اور انھیں خلیفہ حفتر کی فورسز کے علاوہ پڑوسی ملک مصر اور متحدہ عرب امارات کے لڑاکا طیارے بھی اپنے حملوں میں نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

مئی میں صدر عبدالفتاح السیسی کے حکم پر مصری لڑاکاطیاروں نے درنہ میں نے ان جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی۔ یہ فضائی حملے مصر کے شہر المنیا میں قبطی عیسائیوں کی ایک بس پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔اس حملے میں اٹھائیس قبطی عیسائی ہلاک ہوگئے تھے۔ تاہم ناقدین کا کہنا تھا کہ مصر نے جنرل خلیفہ حفتر کی فورسز کی حمایت میں یہ حملے کیے تھے اور یہ مصر میں داعش اور دوسرے جنگجو گروپوں کے حملوں کے ردعمل میں نہیں کیے گئے تھے۔