امریکی مرکزی اںٹیلی جنس ایجنسی "سی آئی اے" کے سربراہ مائیک بومبیو نے ایران کو آیت اللہ اور ان کے پاسداران انقلاب کے تحت دوسری داعش قرار دیا ہے۔ بومبیو کا یہ بیان جمعے کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران بالخصوص جوہری معاہدے کے حوالے سے ان کے آئندہ فیصلے کے اعلان سے قبل سامنے آیا ہے۔

امریکی نیوز نیٹ ورک این بی سی کے مطاباق بومبیو نے جمعرات کے روز ٹیکساس یونی ورسٹی میں اپنے خطاب میں کہا کہ "ایران ایک مجرم پولیس ریاست ہے۔ ایرانی وزارت انٹیلی جنس اور پاسداران انقلاب اس مطلق العنان مذہبی آمریت کے نظام کے ہاتھوں میں کریک ڈاؤن کے آلہ کار ہیں"۔

مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ نے باور کرایا کہ "پاسداران انقلاب مُرشد کے آگے جھکی ہوئی ہے اور وہ تباہ کن شہنشاہیت کی قیادت کرتے ہوئے مشرق وسطی میں اپنا رسوخ بڑھا رہی ہے"۔

بومبیو کے مطابق اگر شام یمن اور عراق میں ایران اور اس کے ایجنٹوں کی کارستانیوں کے نتیجے میں ہلاکتوں اور بربادی پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایران مشرق وسطی میں غالب آنے والی قوت بننے کے لیے کوشاں ہے۔

بومبیو نے تہران کا موازہ داعش تنظیم کے ساتھ کرتے ہوئے کہا کہ "ایران دہشت گردی کا سب سے بڑا سپورٹر ہے"۔

امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ نے انکشاف کیا کہ پاسداران انقلاب نے واشنگٹن میں ایک دہشت گرد حملے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں دھماکا خیز آلہ پھٹنے سے ایک امریکی فوجی ہلاک ہو گیا۔