زمبابوے کی فوج نے صدر رابرٹ موگابے اور ان کی اہلیہ کو ان کے گھر پر نظر بند کر دیا ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق انھیں حراست میں لے لیا گیا ہے ۔ فوج دارالحکومت ہرارے کی شاہراہوں پر گشت کررہی ہے اور ا س کا کہنا ہے کہ سرکاری دفاتر کو محفوظ بنایا جارہا ہے اور مجرموں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

فوج نے رات سرکاری ٹیلی ویژن کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔اس کے بعد ملک میں فوجی بغاوت کی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں لیکن فوج کے حامیوں نے اس کے اقدام کی تعریف کی ہے اور اس کو ’’خونریزی کے بغیر درستی‘‘ قرار دیا ہے۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہرارے میں تین دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی تھیں۔اس سے پہلے آرمی چیف کی بر طرف نائب صدر کی حمایت میں دھمکی آمیز بیان کے بعد چار ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں شہر کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھی گئی تھیں۔ زمبابوے میں غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر شہریوں نے بنکوں سے اپنی رقوم نکلوانا شروع کردی ہیں اور بنکوں میں صارفین کی لمبی قطاریں دیکھی گئی ہیں۔

مجرموں کے خلاف کارروائی

زمبابوے کی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد آرمی کے ترجمان میجر جنرل سِبوسیسو مویو نے کہا کہ فوج صدر موگابے کے ارد گرد موجود ’’ مجرموں‘‘ کو ہدف بنا رہی ہے اور وہ ملک میں صورت حال کو معمول پر لانا چاہتی ہے۔

بدھ کو یہ واضح نہیں ہوا تھا کہ 93 سالہ موگابے اور ان کی اہلیہ کہاں ہیں لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ فوج کی حراست میں ہیں۔انھوں نے منگل کو کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں شرکت کی تھی۔جنوبی افریقا کے صدر جیکب زوما کا کہنا ہے کہ صدر موگابے اپنے گھر پر نظر بند ہیں۔

البتہ جنرل مویو نے نشری بیان میں کہا :’’ ہم قوم کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ جناب صدر اور ان کا خاندان محفوظ ہیں اور ان کی سکیورٹی کی ضمانت دی جاتی ہے‘‘۔

انھوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ ’’یہ فوج کا اقتدار پر قبضہ نہیں ہے۔ہم صرف صدر کے ارد گرد موجود ان مجرموں کو ہدف بنا رہے ہیں ، جنھوں نے جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور ملک کو درپیش سماجی اور اقتصادی مسائل کا سبب بنے ہیں‘‘۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جونہی ہمارا مشن مکمل ہو جاتا ہے تو ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ صورت حال معمول پر آجائے گی۔انھوں نے دوسری سکیورٹی فورسز پر زوردیا ہے کہ وہ ملک کے مفاد میں فوج کے ساتھ تعاون کریں ۔فوجی ترجمان نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی اشتعال انگیزی کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ صدر رابرٹ موگابے نے نائب صدر ایمرسن نانگاگوا کو گذشتہ ہفتے برطرف کر دیا تھا جس کے بعد ملک میں یہ نیا بحران پیدا ہوا ہے اور فوج کے سربراہ نے سوموار کو ایک بیان میں بحران کے حل کے لیے مداخلت کی دھمکی دی تھی۔ تاہم حکمران جماعت کے یوتھ ونگ نے ان پر آئین کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام عاید کیا تھا۔

75 سالہ ایمرسن نانگاگوا کو رابرٹ موگابے کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔ انھوں نے 1970ء کے عشرے میں زمبابوے کی آزادی کی جنگ میں بھی حصہ لیا تھا لیکن صدر نے انھیں 6 نومبر کو چلتا کیا تھا۔وہ برطرفی کے بعد ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔واضح رہے کہ رابرٹ موگابے زمبابوے کی آزادی کے بعد گذشتہ 37 سال سے ملک کے صدر چلے آرہے ہیں۔

زمبابوے کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ صدر موگابے کی حکومت اورمسلح افواج کے درمیان ٹھن گئی ہے۔ فوجی سربراہ جنرل کانسٹن ٹینو چی ونگا نے سوموار کو کہا تھا کہ اگر آزادی کی جنگ میں حصہ لینے والوں کی تطہیر کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ سیاست میں کود پڑیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ فوج انقلاب کو بچانے کے لیے قدم آگے بڑھانے سے گریز نہیں کرے گی۔

گذشتہ ایک ہفتے سے یہ بھی اطلاعات گردش کررہی تھیں کہ صدر اپنی اہلیہ 52 سالہ گریس موگابے کو برسر قتدار لانے کی راہ ہموار کررہے ہیں اور وہ انھیں نائب صدر بنا نا چاہتے ہیں۔حکمراں جماعت زانو پی ایف کے یوتھ ونگ میں شامل نوجوانوں بھی ان کی بھرپور حمایت کررہے ہیں مگر خاتون اول کا آزادی کی جنگ میں حصہ لینے والوں سے تنازعہ پیدا ہو چکا ہے۔ماضی میں ان بزرگ لیڈروں کا حکمراں جماعت میں نمایاں اثر ورسوخ رہا ہے۔ وہ اس کے کرتا دھرتا اور مراعات یافتہ رہے ہیں لیکن حالیہ برسوں کے دوران میں انھیں جماعت اور حکومت کے اعلیٰ عہدوں سے ایک ایک کرکے ہٹا دیا گیا ہے۔