تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی شام میں امریکی اتحاد کے نئی سرحدی فورس کی تشکیل کے منصوبے پر سیخ پا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 10 ذیعقدہ 1439هـ - 23 جولائی 2018م
آخری اشاعت: اتوار 26 ربیع الثانی 1439هـ - 14 جنوری 2018م KSA 20:06 - GMT 17:06
ترکی شام میں امریکی اتحاد کے نئی سرحدی فورس کی تشکیل کے منصوبے پر سیخ پا
ایس ڈی ایف کے جنگجو داعش کے گڑھ الرقہ کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے ۔ فائل تصویر
استنبول ۔ ایجنسیاں

امریکا کی قیادت میں داعش مخالف عالمی اتحاد شام میں اپنی اتحادی ملیشیاؤں میں سے تیس ہزار اہلکاروں پر مشتمل ایک نئی سرحدی فورس کی تشکیل کے منصوبے پر کام کررہا ہے ،اس کے اس منصوبے پر ترکی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ترکی کے ایک سینیر عہدہ دار نے اتوار کو برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’امریکا شام کے لیے نئی بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کو تربیت دے رہا ہے اور یہی سبب ہے کہ انقرہ میں گذشتہ بدھ کو امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور کو وضاحت کے لیے طلب کیا گیا تھا ‘‘لیکن اس ترک عہدے دار نے مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔

اس سرحدی فورس کی ابتدائی تربیتی کلاس اس وقت جاری ہے اور اس کو شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف ) کے کنٹرول والے علاقے کی اندرونی اور بیرونی سرحدوں پر تعینات کیا جائے گا۔شام کے شمالی اور مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے عرب اور کرد جنگجوؤں پر مشتمل اس اتحاد میں کرد ملیشیا وائی پی جی کو بالا دستی حاصل ہے ۔اس نے داعش کے خلاف حالیہ مہینوں کے دوران لڑائی میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔

امریکا کی قیادت میں عالمی اتحاد کے دفتر تعلقات ِعامہ نے رائیٹرز کو بھیجی گئی ایک ای میل میں اس نئی سرحدی فورس سے متعلق جریدے ’’دا ڈیفنس پوسٹ‘‘ میں شائع شدہ رپورٹ کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس فورس کی نصف تعداد ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں پر مشتمل ہوگی اور باقی نصف کی نئی بھرتی کی جائے گی۔

اس فورس کو شمال میں ترکی کی سرحد کے ساتھ ، جنوب مشرق میں عراق کے ساتھ واقع سرحدی علاقے اور دریائے فرات کی وادی میں تعینات کیا جائے گا۔ دریائے فرات امریکا کی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کے زیر قبضہ علا قوں اور ایران اور روس کی حمایت یافتہ شامی فورسز کے عمل داری والے علاقوں میں ایک حد فاصل کا کام دیتا ہے۔

امریکا کی قیادت میں اتحاد کی جانب سے ایس ڈی ایف کی مدد وحمایت سے ترکی سخت نالاں ہے کیونکہ وہ وائی پی جی کو باغی گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے ) کی ایک توسیع سمجھتا ہے۔ پی کے کے نے گذشتہ ساڑھے تین عشروں میں ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں حکومت اور فوج کے خلاف مسلح بغاوت برپا کررکھی ہے۔اس گروپ میں شامل جنگجوؤں نے عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں خفیہ ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔

اس وقت شام میں امریکا کے قریباً دو ہزار فوجی موجود ہیں اور وہی نئی بارڈر فورس کے پہلے دستے کو تربیت دے رہے ہیں۔دمشق میں صدر بشار الاسد کی حکومت امریکی فوجیوں کی ملک میں موجودگی کو غیر قانونی قرار دیتی ہے اور اس کا کہناہے کہ وہ ایک قابض قوت ہیں۔ وہ ایس ڈی ایف کو بھی باغی فورس قرار دیتی ہے حالانکہ اس کے جنگجوؤں نے داعش کے خلاف جنگ اور اس کو شام کے شمال اور شمال مغربی علاقوں سے نکال باہر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

نقطہ نظر

قارئین کی پسند