تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یمن میں حوثی جنگجو صحافیوں کو اغوا کے بعد کس طرح تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 10 ذیعقدہ 1439هـ - 23 جولائی 2018م
آخری اشاعت: اتوار 26 ربیع الثانی 1439هـ - 14 جنوری 2018م KSA 16:41 - GMT 13:41
یمن میں حوثی جنگجو صحافیوں کو اغوا کے بعد کس طرح تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں؟
صحافی تقی الدین الحذیفی کے والد محمد الحذیفیہ اپنے مقتول بیٹے کی لاش کو بوسا دے رہے ہیں۔ تقی الدین یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز میں حوثی باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان لڑائی کی کوریج کرتے ہوئے 26 مئی 2017ء کو مارے گئے تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

یمن میں حوثی شیعہ باغی صحافیوں کو اغوا کے بعد اپنے عقوبت خانوں میں بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور طرح طرح کی اذیتیں دے رہے ہیں۔اس بات کا انکشاف یمن کے وزیر اطلاعات اور یمنی میڈیا کی قومی تنظیم صدا نے ایک نیوز کانفرنس میں کیا ہے۔

انھوں نے اس موقع پر’’ بغاوت کی قیمت‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ دارالحکومت صنعاء اور الضامر میں حوثی ملیشیا نے عقوبت خانے قائم کررکھے ہیں جہاں صحافیوں کو اغوا کر کے لے جایا جاتا ہے اور پھر انھیں وہاں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔اس رپورٹ میں حوثی ملیشیا کے ان جنگجوؤں کے نام بھی دیے گئے ہیں، جو ان جیلوں کے نگران ہیں اور صحافیوں پر تشدد کے عمل کی بھی نگرانی کرتے ہیں۔

صدا کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن میں گذشتہ تین سال سے جاری بحران کے دوران میں بائیس صحافی مارے جا چکے ہیں جبکہ پچپن کو جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان میں پندرہ کو شدید اذیتوں سے دوچار کیا گیا تھا اور انھیں جعلی طور پر موت کے مُنھ میں دھکیلنے کے ڈرامے بھی رچائے گئے تھے۔تنظیم کے ارکا ن کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو ان کے گھروں اور کام کی جگہوں سے اغوا کیا گیا تھا۔

یمن کے وزیر اطلاعات معمر العریانی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ حوثی ملیشیا آج تک صحافیوں کی تلاش میں ان کے گھروں پر چھاپا مار کارروائیاں کررہی ہے ‘‘۔

یمنی تنظیم کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کی جیلوں میں صحافیوں پر پچیس طرح کے تشدد کے حربے آزمائے جارہے ہیں۔انھیں عقوبت خانوں میں جلایا جاتا ہے، جگائے رکھا جاتا ہے ، خوراک نہیں دی جاتی اور انھیں بجلی کے جھٹکے دیے جاتے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ صحافیوں کے خاندانوں کو ان سے ملنے بھی نہیں دیا جاتا ہے جبکہ ان کے خاندان ان کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔یمنی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہمیں کئی کئی ہفتے تک صحافیوں کے اغوا کا معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کیونکہ حوثی جنگجو ان صحافیوں کے خاندانوں کو ڈرا دھمکا کر زبانیں بند رکھنے کا کہتے تھے۔

یمنی میڈیا کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ’’یہ اب ایک انسانی کیس بن چکا ہے اور یہ سیاسی نہیں رہا ہے۔صحافیوں کی بین الاقوامی فیڈریشن نے اس مسئلے پر چند ایک بیانات ہی جاری کیے ہیں اور یہ پابند ِسلاسل صحافیوں کو حوثی باغیوں کی تشدد آمیز کارروائیوں سے بچانے کے لیے کافی نہیں ہیں ‘‘۔

نقطہ نظر

قارئین کی پسند