مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں لیبیا کے مختلف فوجی دھڑوں اور یونٹوں کے نمائندوں کے درمیان فوج کو یک جا اور متحد کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ لیبیا کی مسلح افواج کے ترجمان کرنل احمد المسماری نے کہا ہے کہ فوج کے اتحاد کے لیے ایک مجوزہ سمجھوتے کی بیشتر شقوں پر اتفاق رائے ہوگیا ہے اور اس پر جلد دستخط ہو جائیں گے۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ مصر اس سمجھوتے کا اسپانسر ہے اور یہ لیبیا کی فوج کے اتحاد کے لیے ایک سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس مجوزہ سمجھوتے کا مسودہ لیبیا کے مختلف دھڑوں نے نومبر میں منعقدہ مذاکرات کے دوران میں تیار کیا تھا۔اب ان جاری مذاکرات میں وہ اس سمجھوتے پر دستخط کریں گے۔

مصر کی میزبانی میں ان مذاکرات میں لیبیا کے مختلف عسکری دھڑے شریک ہیں اور ان کا مقصد لیبیا کے مشرقی شہر طبرق میں قائم حکومت کے تحت جنرل خلیفہ حفتر کی قیادت میں فوج اور طرابلس میں قائم بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے تحت فوج اور مسلح دھڑوں کو یک جا کرنا ہے۔

اس مجوزہ سمجھوتے کی کامیابی اور اس پر دست خطوں کے حوالے سے ابھی تک مختلف شکوک کا اظہار کیا جارہا ہے۔بالخصوص دفعہ آٹھ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔یہ فوج اور حکومت کی ملک میں خود مختاری سے متعلق ہے۔