وہائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور متحدہ عرب امارات دونوں ملکوں کے درمیان اوپن اسکائی کے معاہدے کے حوالے سے مفاہمت تک پہنچ گئے ہیں۔

بیان کے مطابق امارات "مالی شفافیت پر آمادہ ہو گیا ہے" اور اماراتی فضائی کمپنیاں امریکا سے کسی تیسرے ملک کے لیے پروازیں چلانے کے حق کی رُو سے اب "کمرشل طیاروں کے نئے رُوٹس کی منصوبہ بندی نہیں کر رہی ہیں"۔

اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ نے بایا تھا کہ امریکا اور امارات نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد امریکا کے اُن دعوؤں کا تصفیہ کرنا ہے کہ خلیجی فضائی کپنیوں کو حکومتی سپورٹ مل رہی ہے۔

رضاکارانہ معاہدے کا اطلاق "اتحاد ایئرویز" اور "ایمریٹس ایئرلائز" پر ہو گا۔

امریکی فضائی کمپنیاں 2015ء سے امریکی حکومت پر زور دے رہی ہیں کہ "اوپن اسکائی" کے معاہدوں کے تحت مشرق وسطی میں تین بڑی فضائی کمپنیوں کے تصرفات کو چیلنج کیا جائے۔

امریکی فضائی کمپنیوں کا اس بات پر استدلال ہے کہ خلیجی فضائی کمپنیوں کو گزشتہ دس برسوں کے دوران اپنی حکومتوں کی جانب سے 50 ارب ڈالر سے زیادہ کی غیر اُصولی سپورٹ حاصل ہوئی۔