تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارت : وٹس ایپ پر ’’ بچہ اغوا‘‘ کی افواہیں پھیلنے کے بعد دو اور قتل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 2 ربیع الثانی 1440هـ - 11 دسمبر 2018م
آخری اشاعت: پیر 27 رمضان 1439هـ - 11 جون 2018م KSA 17:09 - GMT 14:09
بھارت : وٹس ایپ پر ’’ بچہ اغوا‘‘ کی افواہیں پھیلنے کے بعد دو اور قتل
اس ماہ کے دوران میں وٹس ایپ پر بچوں کے اغوا کی افواہیں پھیلنے کے بعد چھے افراد مارے جاچکے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں وٹس ایپ پر بچوں کے اغوا کی افواہ پھیلنے کے بعد ایک جتھے نے دو افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر جان سے مار دیا ہے۔

تشدد کا یہ اندوہ ناک واقعہ گوہاٹی شہر میں پیش آیا ہے۔وہاں ایک آڈیو انجنیئر میلو تپال داس اور ڈیجیٹل آرٹسٹ ابجیت ناتھ نے مبینہ طور پر رُک کر لوگوں سے اپنی جائے منزل کا راستہ پوچھا تھا۔ بس پھر کیا تھا۔ایک ہجوم ان پر پِل پڑا اور انھیں تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا ۔

اس طرح کسی ازدحامی حملے کا صرف وہی نشانہ نہیں بنے ہیں بلکہ ان سے پہلے اس ماہ کے دوران میں بھار ت کے مختلف علاقوں میں چھے افراد کو اسی طرح لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مار پیٹ کر ہلاک کیا جا چکا ہے۔بھارت میں وٹس ایپ پر بچوں کے اغوا کی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں اور پھرمحض شک کی بنیاد پر مشتعل جتھے آنے جانے والے انجان لوگوں کو پکڑ کر مار پیٹ ر ہے ہیں ۔

بھارت کے ایک سینیر پولیس افسر مکیش اگروال نے بی بی سی ہندی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ جب سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلنا شروع ہوتی ہیں تو پھر انھیں مکمل طور پر رکنے میں کچھ وقت لگتا ہے‘‘۔

مذکورہ دونوں افراد کی ہلاکت کی ویڈیو انٹر نیٹ پر وائرل ہوچکی ہے اور علاقے کے مکینوں نے اتوار کو اس واقعے کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں افراد بے گناہ تھے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ بچوں کے اغوا کی وٹس ایپ پر افواہیں کیسے پھیلنا شروع ہوئی تھیں اور آیا حالیہ دنوں میں بچوں کے اغوا کی کوئی واردات ہوئی بھی ہے یا نہیں۔بھارت میں اس طرح ازدحامی حملوں کے واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ہندو بلوائیوں کے جتھے دسیوں مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے یا گائے کا گوشت کھانے کی پاداش میں لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلا چکے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند