تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن نومبر میں امن مذاکرات کی بحالی سے متعلق پُرامید
ہمیں یمنی معیشت کی بحالی کے لیے ہمیشہ سعودی عرب کی فراخدلانہ امداد پر انحصار نہیں کرنا چاہیے:گریفتھس
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 19 ذوالحجہ 1440هـ - 21 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 23 محرم 1440هـ - 4 اکتوبر 2018م KSA 22:29 - GMT 19:29
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن نومبر میں امن مذاکرات کی بحالی سے متعلق پُرامید
ہمیں یمنی معیشت کی بحالی کے لیے ہمیشہ سعودی عرب کی فراخدلانہ امداد پر انحصار نہیں کرنا چاہیے:گریفتھس
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس ابو ظبی میں جمعرات کو رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے۔
ابو ظبی ۔ رائیٹرز

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ آیندہ ماہ نومبر میں جنگ زدہ ملک کے تمام فریقوں کے درمیان بحران کے حل کے لیے بات چیت بحال ہوجائے گی۔

انھوں نے جمعرات کو برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ یمن میں جاری انسانی بحران کو حل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس ملک کی معیشت کو درپیش مسائل حل کیے جائیں۔انھوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ اس وقت بین الاقوامی ترجیح یمنی ریال کی قدر کو مزید گرنے سے بچانا ہے۔

مارٹن گریفتھس کا کہنا تھا کہ ’’اقوام متحدہ اس وقت یمنی ریال کی قدر کو مزید گرنے سے روکنے اور معاشی اعتماد کی بحالی کے لیے ایک ہنگامی منصوبے پر غور کررہی ہے’’۔

’’میرے ذہن میں تو اس حوالے سے کوئی شک نہیں کہ یہ اقتصادی مسئلہ اس وقت سب سے اولین ترجیح ہے۔ اقوام متحدہ میں ہم ایک ماسٹر پلان کی ضرورت کے حوالے سے گفتگو کررہے ہیں۔عالمی بنک ، عالمی مالیاتی فنڈ ، اقوام متحدہ کے تحت ایجنسیاں،خلیجی ممالک او ر یمنی حکومت سب مل بیٹھ کر فوری اقدامات پر بات چیت کرسکتے ہیں‘‘۔عالمی ایلچی کا کہنا تھا۔

سعودی عرب نے اسی ہفتے یمن کے مرکزی بنک کو 20 کروڑ ڈالرز امداد کی شکل میں دیے ہیں تاکہ یمنی ریال کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دیا جاسکے۔اس سے قبل اس نے یمنی بنک میں قریباً تین ارب ڈالرز کی رقم منتقل کی تھی۔تاہم مارٹن گریفتھس کا کہنا تھا کہ یمنی معیشت کی بحالی کے لیے مزید جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا :’’ میرے خیال میں ہم ہمیشہ سعودی عرب کی فراخدلانہ امداد پر انحصار کرسکتے ہیں اور نہ ہمیں ایسا کرنا چاہیے کہ سعودی عرب ہی امداد کی شکل میں نظام میں رقوم ڈالے‘‘۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند