تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شام : ادلب میں سخت گیر گروپ کے حملے میں اسد رجیم کے وفادار چار جنگجو ہلاک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 27 جمادی الثانی 1441هـ - 22 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 21 صفر 1440هـ - 1 نومبر 2018م KSA 16:06 - GMT 13:06
شام : ادلب میں سخت گیر گروپ کے حملے میں اسد رجیم کے وفادار چار جنگجو ہلاک
بیروت ۔ ایجنسیاں

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں ایک سخت گیر گروپ نے ایک حملے میں اسد رجیم کے چار جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے ۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ ماضی میں القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں پر مشتمل ہیئت تحریرالشام نے صوبے کے مشرق میں واقع میں اسد رجیم کے ایک ٹھکانے پر جمعرات کی صبح حملہ کیا تھا۔

رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ حملے میں اسد رجیم کے چار جنگجو ہلاک اور ہیئت تحریرالشام کا ایک حملہ آور بھی مارا گیا ہے اور مجوزہ غیر فوجی علاقے میں دونوں فریقوں کے درمیان توپ خانے سے گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔

شام کے اتحادی روس اور باغیوں کے حامی ترکی کے درمیان ادلب میں بفر زون کے قیام کے لیے ستمبر میں ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔اس پر اکتوبر کے وسط سے عمل درآمد کا آغاز ہونا تھا لیکن اس کی بعض شقوں پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کیا جاسکا ہے۔اس دوران میں انتہا پسند گروپوں اور اسد رجیم کی فورسز کے درمیان وقفےو قفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔ رصدگاہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ جمعہ کو شامی فوج کی ادلب پر گولہ باری سے سات شہری مارے گئے تھے۔

اس سمجھوتے کا مقصد شامی فوج اور اس کے اتحادی روس کو ادلب میں باغیوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی سے روکنا تھا۔سمجھوتے کے تحت باغی گروپوں نے اپنے بھاری ہتھیار مجوزہ غیر فوجی علاقے سے پیچھے ہٹا لیے ہیں لیکن ہیئت تحریرالشام سمیت بعض سخت گیر باغی گروپوں نے علاقے کو خالی کرنے سے انکار کردیا تھا۔

شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے اسی ہفتے اس سمجھوتے پر عمل درآمد کے حوالے سے اپنے عدم اطمیان کا اظہار کیا تھا اور ترکی پر اپنی ذمے داریوں کو پورا نہ کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق گذشتہ سوموار کو انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ دہشت گرد ابھی تک اس سیکٹر میں اپنے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ موجود ہیں ۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی اپنی ذمے داریوں کو پورا نہیں کرنا چاہتا ہے‘‘۔ان کا اشارہ مجوزہ بفر زون میں موجود باغی گروپوں کی جانب تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند