تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یمنی حکومت اور اقوام متحدہ میں الحدیدہ کی بندرگاہ کی مشترکہ نگرانی پر اتفاق
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 23 صفر 1441هـ - 23 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 29 ربیع الاول 1440هـ - 8 دسمبر 2018م KSA 20:53 - GMT 17:53
یمنی حکومت اور اقوام متحدہ میں الحدیدہ کی بندرگاہ کی مشترکہ نگرانی پر اتفاق
یمنی وزیر خارجہ خالد الیمانی
العربیہ ڈاٹ نیٹ

یمن کے وزیر خارجہ خالد الیمانی نے واضح کیا ہے کہ الحدیدہ کی بندرگاہ ملک کی خود مختاری کا حصہ ہے اور قانونی حکومت نے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر اس بندرگاہ کی مشترکہ نگرانی سے اتفاق کیا ہے۔

خالد الیمانی نے ہفتے کے روز العربیہ سے انٹرویو میں کہا ہے کہ سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام امن مذاکرات میں شریک سرکاری وفد نے مشاورت کے فریم ورک اور تمام فریقوں کے درمیان اعتماد کی فضا پید ا کرنے کی ضرورت سے اتفا ق کیا ہے تاکہ جنگ زدہ ملک میں قیام امن کے لیے نقشہ راہ پر عمل درآمد کیا جاسکے۔

خالد الیمانی نے آج فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے بھی گفتگو کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کے کنٹرول میں شہر عدن کا بین الاقوامی ائیر پورٹ ملک کا مرکزی ہوا ئی اڈا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ہم آج ہی صنعاء کا بین الاقوامی ہوائی اڈا کھولنے کو تیار ہیں لیکن ہمارا یہ ویژن ہے کہ عدن یمن کا خود مختار ہوائی اڈا ہوگا‘‘۔

اسٹاک ہوم میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام یمن کے متحارب فریقوں کے درمیان ہفتے کو تیسرے روز بھی بالواسطہ امن بات چیت جاری رہی ہے۔اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس ان مذاکرات میں ثالث کار کا کردار ادا کررہے ہیں۔وہ پہلے ایک فریق سے گفتگو کرتے ہیں اور پھر دوسرے فریق سے اس کے اٹھائے گئے نکات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

ان مذاکرات میں شریک ایک ذریعے کے مطابق فریقین نے قیدیوں کی رہائی سے متعلق پروگرام پر عمل درآمد پر تبادلہ خیال کیا ہے۔اس کے تحت ایران نواز حوثی ملیشیا اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کے زیر قیادت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت دونوں ایک دوسرے کے قیدیوں کو رہا کردیں گے۔

انھوں نے حکومتی وفد اور حوثیوں کے وفد پر مشتمل تین مشترکہ ٹیموں کی تشکیل کے بارے میں بھی مشاورت کی ہے۔ان میں سے ایک ٹیم حوثی ملیشیا کے تعز شہر کے محاصرے کے خاتمے کے بارے میں تبادلہ خیال کرر ہی ہے اور ایک ٹیم معاشی ومالی مسائل پر گفتگو کررہی ہے۔اس نے یمن کے مرکزی بنک کے کام ، حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں سے مالی وسائل اور محصولات کی عدن میں مرکزی بنک کو منتقلی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔اس کے بدلے میں یمن کے تمام علاقوں میں سرکاری ملازمین کو مرکزی بنک تن خواہیں ادا کرے گا۔

لیکن ادھر یمن میں حوثی ملیشیا نے عسکری محاذ پر اپنی مسلح دہشت گردی اور تخریبی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور وہ بحیرہ احمر کے جنوب میں کھلونا بم کشتیوں کے ذریعے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرے کا موجب بن رہی ہے۔ذرائع نے الحدیدہ سے ملنے والی اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے کہ یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے بارود سے لدی دو کشتیاں تباہ کردی ہیں۔حوثی ملیشیا نے انھیں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے تیار کیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند