تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
آپ سے باہمی شراکت داری کے احترام کی توقع رکھتے ہیں : ترکی کا ٹرمپ کو جواب
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 20 شعبان 1440هـ - 26 اپریل 2019م
آخری اشاعت: پیر 7 جمادی الاول 1440هـ - 14 جنوری 2019م KSA 12:12 - GMT 09:12
آپ سے باہمی شراکت داری کے احترام کی توقع رکھتے ہیں : ترکی کا ٹرمپ کو جواب
ابراہیم قالن
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

ترکی میں ایوان صدارت کے ترجمان ابراہیم قالن نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکا دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی شراکت داری کا احترام کرے گا۔ یہ موقف امریکی صدر کے اس انتباہ کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ امریکی انخلا کے بعد شام میں کردوں پر حملے کی صورت میں ترکی کی معیشت کو المیے سے دوچار کر دیا جائے گا۔

قالن نے پیر کے روز اپنی ٹویٹ میں کہا کہ "محترم ڈونلڈ ٹرمپ یہ ایک فاش غلطی ہے کہ دہش گرد تنظیموں سے متعلق امریکی فہرست میں شامل کردستان ورکرز پارٹی اور شام میں اس کی شاخ پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو دیگر کردوں کے برابر سمجھا جائے۔ دہشت گرد کبھی بھی آپ کے شراک دار اور حلیف نہیں ہو سکے۔ ترکی اس بات کی توقع رکھتا ہے کہ امریکا ہمارے درمیان قائم تزویراتی شراکت داری کا احترام کرے گا۔ انقرہ یہ نہیں چاہتا کہ دہشت گرد پروپیگنڈا اس پر اثر انداز ہو"۔

اس سے قبل امریکی صدر نے اتوار کے روز اپنی ٹویٹ میں کہا تھا "اگر ترکی نے کردوں پر حملہ کیا تو ہم اس کو اقتصادی طور پر تباہ کر دیں گے۔ ہم 20 میل کے عرض میں سیف زون قائم کریں گے۔ اسی طرح ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ کردوں کی جانب سے ترکی کو اشتعال دلایا جائے"۔

واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان اختلافات کا تعلق کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے تحفظ سے متعلق ہے۔ انقرہ اسے ایک "دہشت گرد" فورس شمار کرتا ہے جب کہ واشنگٹن دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں اہم کردار کے سبب کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کا دفاع کرتا ہے۔


 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند