تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قطر میں ترکی کی عسکری تنصیبات میں دوحہ کو داخلے کی اجازت نہیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 1 صفر 1442هـ - 19 ستمبر 2020م
آخری اشاعت: پیر 7 جمادی الاول 1440هـ - 14 جنوری 2019م KSA 15:17 - GMT 12:17
قطر میں ترکی کی عسکری تنصیبات میں دوحہ کو داخلے کی اجازت نہیں
لندن – العربیہ ڈاٹ نیٹ

انقرہ اور دوحہ کے درمیان طے پانے والے خفیہ عسکری معاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ قطر کی سرزمین پر تعینات ترک فوج کے عناصر کے زیر استعمال عمارتوں میں قطری حکام کو داخلے ، کنٹرول یا مداخلت کی کسی طور اجازت نہیں ہو گی۔ یہ امر دنیا بھر میں خود مختاری اور سیادت کے معروف معیار کی ایک اور پامالی ہے۔

اگرچہ سمجھوتے کے مطابق ترک فوج کے زیر استعمال آنے والی عمارتیں، جائیداد اور تنصیبات قطر کی ملکیت میں ہی رہیں گی مگر ساتھ یہ سمجھوتا ان تنصیبات میں قطری شہریوں یا حکام کی مداخلت کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ مزید برآں معاہدے کے متن کے مطابق "ان تنصیبات کا استعمال تُرکوں تک محدود رہے گا اور ان کے کسی طرح کے بھی استعمال کے واسطے قطر میں مقیم ترک جنرلوں کی منظوری لازم ہو گی"۔

معاہدے کی ایک کاپی "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو وصول ہوئی ہے۔ اس کے آرٹیکل 6 کے مطابق تُرک افواج کے لیے مخصوص ہر جائیداد، تنصیب یا مقام (اگرچہ وہ قطر کی ملکیت ہوں گی) خصوصی طور پر ترکی کی فوج اور اس کے فیصلوں کے زیر کنٹرول رہیں گے۔

معاہدے کے تحت قطر پر لازم ہو گا کہ جن علاقوں میں ترکی کی فوج موجود ہو اس میں سے کسی جگہ کو استعمال میں لانے یا وہاں داخل ہونے کے واسطے دوحہ کو "پیشگی تحریری منظوری" لینا ہو گی۔

دوحہ اور انقرہ کے درمیان خفیہ عسکری معاہدہ 28 اپریل 2016 کو طے پایا تھا۔ بعد ازاں جون 2017 میں ترک پارلیمنٹ کے ذریعے اس میں توسیع کر دی گئی۔ معاہدے کے تحت ہزاروں ترک فوجیوں کو قطر کی سرزمین پر تعینات کر دیا گیا۔ تاہم یہ اقدام خفیہ رہا ،،، یہاں تک کہ سویڈن کی ایک انگریزی نیوز ویب سائٹ نے یہ معاملہ افشا کر دیا۔ یہ معاہدہ 16 صفحات پر مشتمل ہے اور اس پر دونوں ملکوں کے وزراء دفاع کے دستخط بھی ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند