تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
طالبان تحریک کی تخریبی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے میں قطر کے ملوث ہونے کا انکشاف : رپورٹ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 21 ذوالحجہ 1440هـ - 23 اگست 2019م
آخری اشاعت: منگل 8 جمادی الاول 1440هـ - 15 جنوری 2019م KSA 16:11 - GMT 13:11
طالبان تحریک کی تخریبی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے میں قطر کے ملوث ہونے کا انکشاف : رپورٹ
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سابق امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے ایک امریکی فوجی قیدی کے بدلے گوانتانامو سے آزاد کیے جانے والے شدت پسند عناصر قطر میں طالبان کے "سیاسی" دفتر میں کام کر رہے ہیں۔

امریکی تنظیم"Judicial Watch" کی ویب سائٹ نے اسپین کی بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذکورہ اقدام سے افغان طالبان تحریک کی تخریبی کارروائیوں کو جِلا ملی ہے۔ کیوبا کے جنوب مشرق میں امریکی جیل میں زیر حراست ان 5 افراد پر طالبان کے اندر بڑی اہمیت کی حامل پوزیشنوں کا الزام تھا۔ ان میں طالبان فوج کا سربراہ اور انٹیلی جنس امور کا نائب وزیر بھی شامل ہے۔

اوباما کی جانب سے طالبان کے ان پانچوں ارکان کی رہائی ایک امریکی فوجی کے مقابل عمل میں آئی۔ امریکی سارجنٹ بورگڈیل 2009ء میں افغانستان میں امریکی فوجی اڈے سے بنا اجازت کوچ کر جانے کے بعد سے طالبان کے پاس یرغمال تھا۔ بورگڈیل کو گزشتہ برس ملازمت سے فارغ کر دیا گیا تھا اور اُس پر فوج سے فرار ہونے اور خراب برتاؤ کے الزام کے تحت ایک ہزار ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

قیدیوں کا یہ خفیہ تبادلہ امریکی قانون وہائٹ ہاؤس کے لیے متعین کردہ سرکاری اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ پوچھ گچھ سے متعلق امریکی حکومتی ادارے GAO کے مطابق اوباما نے بورگڈیل کے مقابل انتہائی خطرناک نوعیت کے دہشت گردوں کا تبادلہ کیا لہذا اس فیصلے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اوباما کی جانب سے خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں جرمانے، جیل اور ملازمت سے علاحدگی کی سزاؤں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

بورگڈیل کو 31 مئی 2014 کو رہا کیا گیا۔ اس کے مقابل طالبان کے 5 شدت پسندوں کو آزادی ملی۔ ان میں ملا محمد فضل مظلوم، ملا نور الله نوری، ملا عبد الحق وثيق، ملا خير الله خيرقوت اور مولوی محمد نبی العمری شامل ہیں۔ گرفتاری اور گوانتانامو جیل منتقل کیے جانے سے قبل یہ تمام افراد طالبان تحریک کی اعلی قیادت میں شامل تھے۔

امریکی تنظیم "Judicial Watch" نے بورگڈیل کے متنازع تبادلے کے واقعے کی تحقیقات کیں۔ علاوہ ازیں امریکی وزارت دفاع کو بھی عدالتی کارروائی کی لپیٹ میں لیا گیا تا کہ سرکاری دستاویزات اور ریکارڈ حاصل کیا جا سکے۔ مذکورہ تنظیم نے دہشت گردوں کی رہائی سے متعلق امریکا اور قطر کے درمیان خصوصی مفاہمتی یادداشت کو حاصل کرنے کے لیے عدالتی اقدامات کیے۔

کانگریس میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں امریکی قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر نے انکشاف کیا تھا کہ اُس وقت تک رہائی پانے والے 598 گرفتار شدگان میں سے 150 افراد ایسے ہیں جن کی مختلف تخریبی کارروائیوں میں مصدقہ یا مشتبہ واپسی سامنے آ چکی ہے۔

ان افراد میں سعید علی الشہری نامی ایک شخص بھی تھا۔ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ گوانتامو سے رہائی ملنے کے بعد الشہری یمن میں امریکی سفارت خانے کو دھماکے سے اڑانے کی القاعدہ تنظیم کی کارروائی کا کمانڈر اور ماسٹر مائنڈ بنا۔ گولہ بارود سے بھری گاڑیوں کے ذریعے کیے جانے والے دھماکے میں 16 افراد کی جان چلی گئی۔ یہ واقعہ تقریبا 5 سال پرانا ہے اور گوانتانامو میں قید رہنے والے سابقہ قیدیوں کی جانب سے دھچکوں کا سلسلہ بھرپور طور پر جاری ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند