تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب : نیوم بے ترقیاتی منصوبے کے ماسٹر پلان کی منظوری
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 21 ذوالحجہ 1440هـ - 23 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 10 جمادی الاول 1440هـ - 17 جنوری 2019م KSA 07:29 - GMT 04:29
سعودی عرب : نیوم بے ترقیاتی منصوبے کے ماسٹر پلان کی منظوری
الریاض ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کے ولی عہد،وزارتی کونسل کے نائب صدر ،وزیر دفاع اور سرکاری سرمایہ کاری فنڈ کے چئیرمین شہزادہ محمد بن سلمان نے نیوم بے کے ماسٹرپلان کے تزویراتی تصور کی منظوری دے دی ہے ۔ جدید سہولتوں سے مزیّن نئے بسائے جانے والے نیوم میں یہ پہلا شہری منصوبہ ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی( ایس پی اے) کے مطابق تاسیسی بورڈ نے 2019ء کی پہلی سہ ماہی میں تعمیراتی کام شروع کرنے کی تیاری مکمل کرنے کی منظوری دی ہے۔یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس سال کے آخر تک نیوم بے میں بنیادی سہولتیں مہیا کرنے کے لیے ترقیاتی کاموں کا آغاز ہو جائے گا۔ان میں شرما میں واقع موجودہ ہوائی اڈے کی توسیع بھی شامل ہے۔اس کے بعد دارلحکومت الریاض اور نیوم کے درمیان تجارتی پروازیں شروع کی جاسکیں گی۔نیوم بے کے ترقیاتی منصوبے کے پہلے مرحلے کا کام 2020ء میں مکمل ہوگا۔

نیوم کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) نضمی النصر نے کہا ہے کہ ’’ 2019ء کا سال نیوم کے سفر میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔اب ہم نیوم بے کے علاقے کی ترقی کی تیاری کررہے ہیں۔یہ شہری زندگی کا ایک نیا تصور پیش کرے گا اور یہ دنیا کے عالمی دماغوں کو جدید اقتصادی شعبے کی ترقی کے لیے اپنی جانب راغب کرے گا‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ نیوم بے کی ترقی کی حکمت عملی چار بنیادی ستونوں پر منحصر ہوگی اور اس منصوبے میں پائیداری کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔ان میں پہلا مقیم ہونے والے خاندانوں کو ایک آئیڈیل معیار زندگی مہیا کرنا ہے، دوسرا اعلیٰ طرز ندگی کی تخلیق اور پرتعیش سیاحتی منزل بنانا ہے۔تیسرا اور چوتھا ستون نیوم میں جدت اور تخلیقی مواقع مہیا کرنے کے لیے مراکز کا قیام ہے تاکہ نیوم کے اقتصادی مقاصد کو حاصل کیا جاسکے‘‘۔

نیوم میں مجوزہ تخلیقی مراکز سے مختلف شعبوں میں علم پر مبنی معیشت کو مدد حاصل ہوگی۔صحت اور میڈیا جیسے شعبوں کی ترقی سے نیوم کو ایک خصوصی شناخت حاصل ہوگی۔

نیوم بے

نیوم بے ، نیوم شہر کا پہلا منصوبہ ہوگا۔یہ اپنے مخصوص درجہ حرارت اور ساحل سمندر کی وجہ سے نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔اس منصوبے کے لیے سعودی عرب کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ سے 500 ارب ڈالرز مہیا کیے جارہے ہیں۔اس سے مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے مواقع حاصل ہوں گے۔

نیوم بے کی تکمیل سے اس کے باسیوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں اور جدید سہولتوں کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے ایک مثالی ماحول میسر آئے گا۔

مزید برآں نیوم بے کا منصوبہ ماحول دوست ہے اور اس کے بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق وضع کیا گیا ہے۔اس شہر میں قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی حاصل کی جائے گی۔پانی کوکسی ضرررساں مواد کے اخراج کے بغیر مصفیٰ کیا جائے گا اور کاربن کے اخراج کو کم سے کم سطح پر رکھا جائے گا۔

خطے کے منفرد ماحول کی خصوصیات کو برقرار رکھا جائے گا،منفرد ماحولی نظام کا تحفظ کیا جائے گا ، بہترین عالمی اقدامات کی بدولت خطے کی خوب صورتی کو برقرار رکھا جائے گا اور اس کو مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ کیا جائے گا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند