تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا میں ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے قانون سازی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 17 رمضان 1440هـ - 22 مئی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 14 جمادی الثانی 1440هـ - 20 فروری 2019م KSA 07:44 - GMT 04:44
امریکا میں ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے قانون سازی
دبئی ۔ العربیہ

ایران کے ساتھ مسلسل بڑھتی کشیدگی کے جلومیں امریکی کانگریس میں ایک نئے قانون کی منظوری پر کام جاری ہے جس کے بعد ایران کے خلاف طاقت کےاستعمال کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

امریکی انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے سال 2019ء میں عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی قوتوں کے حوالے سے تیار کردہ رپورٹ میں ایران میں القاعدہ کی سرگرمیوں کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2009ء سے ایران القاعدہ کے جنگجوئوں‌کے درمیان باہمی رابطہ کا موثر ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے راستے جنوبی ایشیا اور شام میں القاعدہ کے جنگجوئوں کی آمد روفت ممکن ہوئی۔ نیز ایران نے اپنے ملک میں موجود القاعدہ کے خطرناک جنگجوئوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانےمیں رکاوٹیں کھڑی کیں۔

القاعدہ کے جنگجوئوں اور لیڈروں کو پناہ دینے اور اس کے لیے سہولت کاری کےعلاوہ خود مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے خطرہ بننے والے ایران کے خلاف امریکی انتظامیہ نے قانون سازی پرکام شروع کیا ہے تاکہ ایران کے خلاف فوجی طاقت کی راہ ہموار کی جاسکے۔

نائن الیون کے حملے کے بعد امریکی کانگریس نےایک بل منظور کیا تھا جس میں صدر کو طالبان اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کا اختیار دیا تھا تاہم موجودہ حالات میں سیاسی اور تزویراتی اسباب کی بناء پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت دینا کافی پیچیدہ ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند