تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغان طالبان کے نئے سیاسی سربراہ امریکی ایلچی سے مذاکرات کے لیے قطر نہیں جائیں گے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 18 جمادی الثانی 1440هـ - 24 فروری 2019م KSA 06:33 - GMT 03:33
افغان طالبان کے نئے سیاسی سربراہ امریکی ایلچی سے مذاکرات کے لیے قطر نہیں جائیں گے
امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کابل میں صحافیوں سے گفتگو کررہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ ، ایجنسیاں

افغان طالبان نے کہا ہے کہ ان کے نئے سیاسی سربراہ ملّا عبدالغنی برادر اس ہفتے قطر میں امریکا کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد سے ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔

امریکی حکام ملّا عبدالغنی برادر کے ساتھ بات چیت کے خواہاں تھےتا کہ افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے کی راہ میں حائل پیچیدہ مسائل کی گتھی کو سلجھایا جاسکے لیکن طالبان کے بعض رہ نماؤں نے واضح کیا ہے کہ ملّا برادر مختلف وجوہ کی بنا پر قطر نہیں جا سکیں گے۔ ایک تو انھیں سفری دستاویزات نہیں مل سکیں اوردوسرا امریکا سے مذاکرات میں ان کے کردار کے حوالے سے قیادت میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ملّا برادر کو گذشتہ سال اکتوبر میں ایک پاکستانی جیل سے رہا کیا گیا تھا ۔وہ امریکا کے افغانستان پر حملے کے بعد قریباً نوسال تک افغان طالبان کی قابض فورسز کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں کی قیادت کرتے رہے تھے۔انھیں 2010 ء میں امریکا اور پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ پاکستان میں زیر حراست رہے تھے۔وہ طالبان تحریک کے شریک بانی ہیں۔ وہ طالبان کے مرحوم قائد ملّا محمد عمر کے معتمد قریبی ساتھی تھے اور مرحوم ہی نے انھیں برادر یا بھائی قرار دیا تھا اور یہ لفظ اب ان کے نام کا حصہ بن چکا ہے۔

واضح رہے کہ جنوری میں قطر میں امریکا کے خصوصی امن ایلچی زلمے خلیل زاد اور طالبان کے نمایندوں کے درمیان چھے روز تک مذاکرات جاری رہے تھے اور ان میں فریقین نے نمایاں پیش رفت کی اطلاع دی تھی۔

مذاکراتی عمل سے آگاہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ طالبان سے ان کی نئی یقین دہانیوں پر مزید تفصیل حاصل کرنے کی امید کررہے ہیں ۔امریکا طالبان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ امن معاہدہ ہونے کی صورت میں افغان سرزمین کو القاعدہ اور داعش ایسے گروپوں کو واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں ۔

امریکا طالبان پر یہ بھی زور دے رہا ہے کہ وہ افغان حکومت سے براہ راست مذاکرات کریں۔ تاہم طالبان کے ایک سینیر کمانڈر کا کہنا ہے : ’’ ہم بار بار یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ ہم افغان حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کریں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ ہمارے مطالبات کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے‘‘۔

امریکا کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ کا خاتمہ اور بحران کا حل بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے لیکن طالبان اس ’’غیر قانونی حکومت‘‘ کے ساتھ بات چیت سے سرے انکاری ہیں ۔

ایک طالبان عہدہ دار کا کہنا ہے کہ آیندہ مذاکرات میں کسی نمایاں کامیابی کی توقع نہیں کی جا رہی ہے۔ البتہ وہ قیدیوں کے تبادلے اور طالبان رہ نماؤں پر عاید پابندیوں کے خاتمے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی ایلچی سے آیندہ مذاکرات میں طالبان وفد کی قیادت شیر محمد عباس ستنکزئی ہی کریں گے ۔انھوں نے ماسکو میں حال ہی میں افغانستان کی حزبِ اختلاف کی نمایاں شخصیات سے مذاکرات کیے تھے۔

طالبان تحریک نے قبل ازیں یہ اعلان کیا تھا کہ اس کی ٹیم پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اسی ہفتے امریکی حکام سے مذاکرات کرے گی اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے بھی بات چیت کرے گی لیکن اسلام آباد میں یہ مجوزہ مذاکرات اچانک ملتوی کردیے گئے ہیں اور اس کی کوئی وجہ بھی سامنے نہیں آسکی ہے۔

قبل ازیں افغان طالبان نے پاکستان میں امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیا تھا اور اس حوالے سے پاکستانی میڈیا کی ان رپورٹس کو مسترد کردیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ وہ امریکی ایلچی سے ملاقات کی بحالی کے لیے تیار ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند