تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا اور افغان طالبان میں امن مذاکرات ، فوجی انخلا اور انسداد ِدہشت گردی پر تبادلہ خیال
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 16 ذیعقدہ 1440هـ - 19 جولائی 2019م
آخری اشاعت: منگل 20 جمادی الثانی 1440هـ - 26 فروری 2019م KSA 20:10 - GMT 17:10
امریکا اور افغان طالبان میں امن مذاکرات ، فوجی انخلا اور انسداد ِدہشت گردی پر تبادلہ خیال
امریکا کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے سوموا ر کو دوحہ میں افغان طالبان کے شریک بانی ملّا عبدالغنی برادر سے پہلی مرتبہ ملاقات کی تھی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ ، ایجنسیاں

افغان طالبان اور امریکا نے جنگ زدہ ملک سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلا اور انسدادِ دہشت گردی ایسے موضوعات پر پہلی مرتبہ تفصیل سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

طالبان کے وفد اور امریکا کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کے زیر قیادت ٹیم کے درمیان سوموار کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات شروع ہوئے تھے۔زلمے خلیل زاد نے گذشتہ روز ظہرانے پر پہلی مرتبہ طالبان کے شریک بانی اور نئے سیاسی سربراہ ملّا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی تھی۔

مؤخر الذکر کو حال ہی میں طالبان تحریک کا سیاسی سربراہ مقرر کیا گیا ہے اور وہ پہلی مرتبہ امریکا کے ساتھ امن مذاکرات میں شرکت کررہے ہیں۔ وہ پاکستان کے شہر کوئٹہ سے دوحہ گئے تھے اور ان کے لیے سفری سہولتیں مہیا کرنے پر امریکی ایلچی نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق طرفین افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے نظام الاوقات اور اس مقصد کے لیے لاجسٹک اسپورٹ مہیا کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔امریکا طالبان سے یہ ضمانت چاہتا ہے کہ وہ غیرملکی فوجیوں کے انخلا کے بعد افغانستان کو دہشت گرد گروپوں کی آماج گاہ نہیں بننے دیں گے اور القاعدہ اور داعش ایسے گروپوں کو امریکا اور اس کے اتحادیوں پر حملوں کی اجازت نہیں دیں گے۔

اس وقت افغانستان میں قریباً چودہ ہزار فوجی تعینات ہیں ۔ان میں امریکا کی قیادت میں نیٹو کا مشن افغان فورسز کو تربیت دے رہا ہے اور ان کی جنگی کارروائیوں میں معاونت کررہا ہے۔بعض امریکی فوجی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی شریک ہیں۔

ایک عہدہ دار نے بتایا ہے کہ دوحہ میں مذاکرات میں شرکت کے لیےامریکی فوج کے اعلیٰ حکام کو خصوصی طور پر لایا گیا ہے جس کے بعد اس امید کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں ایک وسیع تر سمجھوتا متوقع ہے۔ تاہم ابھی تک جنگ بندی اور امریکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق کوئی زیادہ تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔ ایک اور ذریعے کا کہنا ہے کہ ’’کمرے میں میز کے دونوں جانب اس وقت درست لوگ موجود ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ افغان طالبان نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ ان کے نئے سیاسی سربراہ ملّا عبدالغنی برادر قطر میں امریکا کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد سے امن مذاکرات میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔انھوں نے اس کا جواز یہ بتایا تھا کہ انھیں سفری دستاویزات نہیں مل سکیں اوردوسرا امریکا سے مذاکرات میں ان کے کردار کے حوالے سے قیادت میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔تاہم ایک روز بعد ہی پاکستان کی معاونت سے ملّا برادر کے قطر روانہ ہونے کے انتظامات ہوگئے تھے۔

امریکی حکام ملّا عبدالغنی برادر کے ساتھ بالخصوص بات چیت کے خواہاں تھےتا کہ افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے کی راہ میں حائل پیچیدہ مسائل کی گتھی کو سلجھایا جاسکے ۔ملّا برادر کو گذشتہ سال اکتوبر میں ایک پاکستانی جیل سے رہا کیا گیا تھا ۔وہ امریکا کے افغانستان پر حملے کے بعد قریباً نوسال تک افغان طالبان کی قابض فورسز کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں کی قیادت کرتے رہے تھے۔

انھیں 2010 ء میں امریکا اور پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ پاکستان میں زیر حراست رہے تھے۔وہ طالبان تحریک کے شریک بانی ہیں۔ وہ طالبان کے مرحوم قائد ملّا محمد عمر کے معتمد قریبی ساتھی تھے اور مرحوم ہی نے انھیں برادر یا بھائی قرار دیا تھا اور یہ لفظ اب ان کے نام کا حصہ بن چکا ہے۔

واضح رہے کہ جنوری میں قطر میں امریکا کے خصوصی امن ایلچی زلمے خلیل زاد اور طالبان کے نمایندوں کے درمیان چھے روز تک مذاکرات جاری رہے تھے اور ان میں فریقین نے نمایاں پیش رفت کی اطلاع دی تھی۔خلیل زاد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ کا خاتمہ اور بحران کا حل بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے لیکن طالبان اس ’’غیر قانونی حکومت‘‘ کے ساتھ بات چیت سے سرے انکاری ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمارے مطالبات کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے‘‘۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند