تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مساجد میں دہشت گردی کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی مقبولیت عروج پر پہنچ گئی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م
آخری اشاعت: منگل 10 شعبان 1440هـ - 16 اپریل 2019م KSA 06:40 - GMT 03:40
مساجد میں دہشت گردی کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی مقبولیت عروج پر پہنچ گئی
نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم جیسنڈا ارڈرن
ولنگٹن ۔ ایجنسیاں

نیوزی لینڈ میں مارچ کے وسط میں ایک آسٹریلوی دہشت گرد کی جانب سے مساجد میں نمازیوں‌کے قتل عام کے وحشیانہ واقعے کے بعد نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم جیسنڈا ارڈرن کو عالم اسلام کی طرف سے کافی پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ رائے عامہ کےایک تازہ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم ارڈرن کی عوامی مقبولیت اپنے عروج کو پہنچ گئی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق پندرہ مارچ کو کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں پچاس سے زاید نمازیوں کی شہادت کے واقعے نے وزیراعظم جیسنڈا ارڈرن کی عوامی مقبولیت کو بال وپرلگا دیے ہیں۔ تازہ سروے میں 51 فی صد شہریوں‌نے اپنی پسندیدہ وزیراعظم قرار دیا ہے جب کہ گذشتہ فروری میں ہونے والے ایک سروے میں صرف 7 فی صد رائے دہندگان نے ان کے بارےمیں پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔

رائے عامہ کا یہ جائزہ ایک مقامی ٹی وی چینل 'نیوز1 کولمار برونٹن' کی جانب سے لیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم جیسنڈا ارڈرن کو 51 فی صد عوام نے اپنی مقبول وزیراعظم قرار دیا۔

پندرہ مارچ کو کرائسٹ چرچ میں ہونے دو مساجد میں 50 نمازیوں‌کی شہادت کے واقعے کے بعد مسز ارڈرن کی عوامی مقبولیت کے حوالے سے یہ پہلا جائزہ ہے۔ یہ سروے چھ سے دس اپیرل کےدرمیان جاری رہا جس میں تین اعشاریہ ایک فی صد آراء کو غلط قراردیا تھا۔

سروے جائزے کے مطابق ارڈرن کی قیادت میں نیوزی لینڈ کی حکمران‌جماعت لیبرپارٹی کی عوامی مقبولیت 48 فی صد تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں نیشنل پارٹی کی عوامی مقبولیت کم ترین سطح پرآگئی ہے۔ سن 2017ء میں نیشنل پارٹی کی عوامی مقبولیت 40 فی صد تھی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند