تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
'امریکی امن پلان میں جزیرہ سیناء فلسطینیوں کو دینے کی تجویز شامل نہیں'
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 17 ذیعقدہ 1440هـ - 20 جولائی 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 14 شعبان 1440هـ - 20 اپریل 2019م KSA 06:56 - GMT 03:56
'امریکی امن پلان میں جزیرہ سیناء فلسطینیوں کو دینے کی تجویز شامل نہیں'
مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی جیسن گرین بیلٹ
مقبوضہ بیت المقدس ۔ ایجنسیاں

مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی جیسن گرین بیلٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر کے مشرق وسطیٰ کے لیے مجوزہ امن منصونے میں جزیرہ نما سیناء کا علاقہ فلسطینیوں کو دینے کوئی تجویز شامل نہیں۔

گرین بیلٹ نے سوشل میڈیا اور بعض ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی امن منصوبے میں غزہ کے علاقے کو مصر کے جزیرہ نما سیناء تک وسعت دینے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔

امریکا کی طرف سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے کے لیے 'صدی کی ڈیل' کے عنوان سے ایک امن پلان تیار کیا گیا ہے تاہم اس منصوبے کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

گرین بیلٹ‌ نے "ٹویٹر" پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ میں نے وہ رپورٹس سنی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ہمارے امن منصوبے میں جزیرہ سیناء میں فلسطینیوں کو بسانے کی بات کی گئی ہے مگر اس پلان میں ایسی کوئی تجویز شامل نہیں ہے۔

امریکا اور اسرائیل کے ذرائع ابلاغ کے مطابق توقع ہے کہ جون میں امریکی صدر کا اعلان کردہ امن منصوبہ جاری کردیا جائے گا۔ فی الحال یہ معلوم نہیں‌ ہو سکا کہ آیا اس منصوبے میں فلسطینیوں کا حق خود ارادیت اور ان کی آزاد ریاست کا مطالبہ تسلیم کیا گیا ہے یا نہیں۔

فلسطینی غزہ، غرب اردن اور مشرقی بیت المقدس کو ریاست کے دارالحکومت کے طور پر آزاد کرانے کی جدو جہد کر رہے ہیں۔

امریکا کی نگرانی میں سنہ 2014ء کو آخری بار اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات ہوئے جو ناکام ہوگئے تھے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند