تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا کی ایرانی تیل پر پابندیوں کا جواب دیا جائے گا:آیت اللہ علی خامنہ ای
دشمن نے بار بار ہماری عظیم قوم اور ہمارے انقلاب کے خلاف اِقدامات کیے،مگر وہ رائیگاں ہی گئے ہیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 17 رمضان 1440هـ - 22 مئی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 18 شعبان 1440هـ - 24 اپریل 2019م KSA 22:02 - GMT 19:02
امریکا کی ایرانی تیل پر پابندیوں کا جواب دیا جائے گا:آیت اللہ علی خامنہ ای
دشمن نے بار بار ہماری عظیم قوم اور ہمارے انقلاب کے خلاف اِقدامات کیے،مگر وہ رائیگاں ہی گئے ہیں
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تہران میں ایک اجتماع میں تقریر کررہے ہیں۔
تہران ۔ ایجنسیاں

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کے تیل کی پابندیوں سے استثنا ختم کرنے کے فیصلے کو ایک انتقامی اِقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ’’اس کو کسی ردعمل کے بغیر ہی نہیں رہنے دیا جائے گا‘‘۔

سپریم لیڈر نے بدھ کو اپنے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’’ امریکا کی ایران کے تیل کی فروخت کے بائیکاٹ کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی ۔ہم اپنی ضرورت کے مطابق اور جتنا چاہتے ہیں ، اپنا تیل برآمد کریں گے‘‘۔انھوں نے یہ بات تہران میں کارکنان کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔

امریکانے گذشتہ سوموار کو ایران سے تیل کے خریدار ممالک کو پابندیوں سے حاصل استثنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ان آٹھ ممالک میں بھارت ، چین اور ترکی بھی شامل ہیں۔انھیں امریکا نے نومبر میں ایران کے خلاف سخت پابندیاں کے نفاذ کے وقت چھے ماہ کے لیے تیل خرید کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

ان میں سے پانچ ممالک یونان ، اٹلی ، جاپان ، جنوبی کوریا اور تائیوان نے ایران سے تیل کی خریداری میں پہلے ہی نمایاں کمی کردی ہے۔ امریکی صدر نے ان ممالک کو مئی تک ایران سے بلا روک ٹوک تیل خرید کرنے کی اجازت دی تھی اور انھیں ایران پر عاید کردہ پابندیوں سے مستثنا قرار دیا تھا لیکن اب جون میں اگر وہ ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھتے ہیں تو پھر وہ بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آجائیں گے۔

ایران نے امریکا کی عاید کردہ ان پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔علی خامنہ ای نے بدھ کو نشر کی گئی اس تقریر میں مزید کہا : ’’ وہ ( امریکی) یہ خیال کرتے ہیں کہ انھوں نے ایران کی تیل کی فروخت کو بند کردیا ہے مگرہماری پُرعزم قوم اور چوکس حکام اگر جاں فشانی سے کام کریں تو وہ بہت سے بند راستے کھول لیں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ دشمن نے بار بار ہماری عظیم قوم اور ہمارے انقلاب کے خلاف اِقدامات کیے ہیں مگر وہ رائیگاں ہی گئے ہیں اور انھیں جان لینا چاہیے کہ ایرانی ان کے دامِ فریب میں نہیں آئیں گے‘‘۔

سپریم لیڈر نے اپنی تقریر میں اس موقف کا اعادہ کیا کہ ’’ایران کو صرف خام تیل کے بجائے عالمی مارکیٹ میں مصفا تیل اورپیٹروکیمیکل مصنوعات کی فروخت پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور میں خام تیل کی فروخت پر انحصار میں کمی کو سراہتا ہوں ‘‘۔

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی فیصلے کے ردعمل میں سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران پابندیوں میں چھوٹ کے خاتمے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا ہے۔وزیرخارجہ جواد ظریف نے منگل کے روز کہاکہ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک نہیں سنے گا۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’ ایرانیوں کے خلاف معاشی دہشت گردی امریکی رجیم میں افراتفری کو ظاہر کررہی ہے۔قدیم فارسی تہذیب کے وارثان غیرملکیوں کے مشوروں پر اپنی حکمتِ عملی ترتیب نہیں دیتے ہیں۔خواہ یہ امریکی ہی کیوں نہ ہوں‘‘۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند