تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سوڈان کی حکمراں فوجی کونسل کی مظاہرین کے لیڈروں کو ملاقات کی دعوت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 17 رمضان 1440هـ - 22 مئی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 18 شعبان 1440هـ - 24 اپریل 2019م KSA 20:21 - GMT 17:21
سوڈان کی حکمراں فوجی کونسل کی مظاہرین کے لیڈروں کو ملاقات کی دعوت
سوڈان کی سول سوسائٹی کے دو سرکردہ کارکنان معاویہ شداد ( بائیں) اور عمر الدیجیر ( دائیں) خرطوم میں ایک پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔
خرطوم ۔ ایجنسیاں

سوڈان کی حکمراں فوجی کونسل نے آج بدھ کی رات احتجاجی تحریک کے لیڈروں کو ملاقات کی دعوت دی ہے جبکہ مظاہرین فوجی کونسل پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایک سول حکومت کے حق میں اقتدار سے دستبردار ہو جائے ۔

فوجی کونسل کے ایک بیان کے مطابق اس نے اتحاد برائے آزادی اور تبدیلی کے لیڈروں کو آج خرطوم میں صدارتی محل میں ایک اجلاس کے لیے مدعو کیا ہے۔ایک اور بیان میں کونسل نے کہا ہے کہ وہ اس اتحاد کی انقلاب کے لیے پُرامن جدوجہد کو تسلیم کرتی ہے جس کے نتیجے میں طویل عرصے سے برسراقتدار عمر حسن البشیر کے اقتدار کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔

بیان میں کونسل کی جانب سے اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس ملاقات کے نتیجے میں مختلف تنظیموں پر مشتمل اس گروپ سے مادرِ وطن کےمستقبل کے حوالے سے بات چیت کی راہ ہموار ہوگی۔

قبل ازیں حزبِ اختلاف کے ایک سینیر لیڈر نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ مظاہرین کے قائدین فوجی کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان سے براہ راست ملاقات کو تیار ہیں۔

اتحاد برائے آزادی اور تبدیلی کے ایک رہ نما عمر الدیجیر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم فوجی کونسل کے سربراہ سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور میرے خیال میں مکالمے کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ گذشتہ اتوار کو مظاہرین کے لیڈروں نے فوجی کونسل کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کردیا تھا اور اس پر معزول صدر عمر البشیر کے رجیم ہی کی توسیع ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔

تاہم سوڈان کے نئے فوجی حکمراں لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان نے اپنے پہلے ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے زیر ِقیادت فوجی کونسل اقتدار شہریوں کے سپرد کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور وہ احتجاجی تحریک کے قائدین کے پیش کردہ مطالبات کا ایک ہفتے کے اندر جواب دے گی ۔

جنرل عبدالفتاح البرہان نے 12 اپریل کو سوڈان کی عبوری فوجی کونسل کے نئے سربراہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔اس سے ایک روز  قبل ہی فوج نے عمر حسن البشیر کو معزول کرکے گرفتار کر لیا تھا۔انھوں نے اپنے پہلے نشری خطاب میں کہا تھا کہ حزبِ اختلاف کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک سول حکومت قائم کی جائے گی۔انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ عبوری دور زیادہ سے زیادہ دو سال کے لیے ہوگا۔تاہم احتجاجی تحریک کے قائدین ان سے اقتدار فوری طور پر ایک سول حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند