تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا نے حزب اللہ کے مالی خدمت گزاردو افراد اور تین اداروں پر پابندیاں عاید کردیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 17 ذیعقدہ 1440هـ - 20 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 19 شعبان 1440هـ - 25 اپریل 2019م KSA 23:29 - GMT 20:29
امریکا نے حزب اللہ کے مالی خدمت گزاردو افراد اور تین اداروں پر پابندیاں عاید کردیں
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے حامی نعرے بازی کررہے ہیں۔ فائل تصویر
العربیہ ڈاٹ نیٹ ، ایجنسیاں

امریکا نے بدھ کے روز ایران کے حمایت یافتہ مسلح لبنانی گروپ حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے دو افراد اور تین اداروں پر پابندیاں عاید کردی ہیں اور انھیں بلیک لسٹ قرار دے دیا ہے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ جن دو افراد پر پابندیاں عاید کی گئی ہیں، ان میں ایک بیلجیئم کا شہری ہے اور ایک لبنانی شہری ہے۔پابندیوں کی زد میں آنے والے تین ادارو ں میں دو بیلجیئم سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک برطانو ی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے بیلجیئم میں مقیم لبنانی نژاد شہری وائل بازی اور ان کی دو کمپنیوں پر ان کے والد اور حزب اللہ کے مالی معاون محمد بازی کے ایما پر کام کرنے کے الزام میں پابندی عاید کی ہے اور انھیں بلیک لسٹ قرار دیا ہے۔ان کے علاوہ لبنان سے تعلق رکھنے والے حسن طبجہ کو بلیک لسٹ قرار دیا گیا ہے ،وہ اپنے بھائی حزب اللہ کے رکن اور مالی معاون اعظم طبجہ کی جانب سے اور ان کے نام پر کام کرتے تھے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے انڈر سیکریٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس سیگل میڈلکر نے کہا ہے کہ ’’ٹریژری نے حزب اللہ کے مالیاتی سہولت کاروں کا انتھک انداز میں پیچھا جاری رکھا ہوا ہے اور اس تنظیم کے دو سب سے اہم مالیاتی نیٹ ورکس کو توڑ دیا ہے۔حزب اللہ نے بھی بظاہر جائز کاروباروں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی پیچیدہ اور خفیہ سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں مگر ہم ترسیل زر کو چھپانے والے فرنٹ مینوں کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے اور دہشت گرد قرار دیے گئے افراد کے رشتے داروں کے خلاف بھی کارروائی جاری رہے گی‘‘۔

امریکا نے قبل ازیں بھی لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے کالے دھن کو سفید کرنے والے متعدد لبنانیوں پر پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔ان میں دو افراد محمد نورالدین اور حامدی ظاہرالدین بھی شامل تھے۔نورالدین بیروت میں واقع کمپنی ٹریڈ پوائنٹ انٹرنیشنل کے لیے کام کرتے تھے اور اسی کے ذریعے حزب اللہ سے وابستہ کاروباروں اور افراد تک رقوم پہنچاتے تھے۔وہ ایشیا ،یورپ اور مشرق ِ اوسط میں ایک بڑے نیٹ ورک کو منی لانڈرنگ ،رقوم کو ادھر سے ادھر منتقل کرنے ،بلیک مارکیٹ میں کرنسی کے تبادلے اور حزب اللہ کے ارکان سمیت مختلف لوگوں کو مالیاتی خدمات مہیا کرنے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔حامدی ظاہرالدین ٹریڈ پوائنٹ میں ملازمت کرتا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا نے حزب اللہ کے عسکری اور سیاسی ونگ دونوں کو دہشت گرد قرار دے کر بلیک لسٹ کر رکھا ہے اور ان سے وابستہ متعدد افراد اور اداروں پر پابندیاں عاید کررکھی ہیں جن کے تحت امریکا میں ان کے اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں اور امریکی شہری اور ادارے ان کے ساتھ کسی قسم کا مالی یا کاروباری لین دین نہیں کر سکتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند