تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سری لنکا :خودکش بم دھماکوں کے بعد سیکریٹری دفاع مستعفی،ہلاکتوں کی تعداد 253
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 17 رمضان 1440هـ - 22 مئی 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 20 شعبان 1440هـ - 26 اپریل 2019م KSA 23:13 - GMT 20:13
سری لنکا :خودکش بم دھماکوں کے بعد سیکریٹری دفاع مستعفی،ہلاکتوں کی تعداد 253
سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا ساحلی شہر نیگومبو میں واقع سیبسٹین چرچ میں بم دھماکے کے دو روز بعد تباہ شدہ عمارت کامعائنہ کرتے ہوئے۔
کولمبو ۔ ایجنسیاں

سری لنکا کے سیکریٹری دفاع گذشتہ اتوار کو ایسٹر کے موقع پر تباہ کن بم دھماکوں کو روکنے میں سکیورٹی فورسز کی ناکامی پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔حکام نے ان بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد پر  نظرثانی کی ہے اور کہا ہے کہ اب تک 253 مہلوکین کی شناخت ہوئی ہے۔قبل ازیں حکام نے چار ہوٹلوں اور تین گرجا گھروں میں خودکش  بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 359 بتائی تھی۔

سری لنکن حکام نے جمعرات کو کہا ہے کہ بم دھماکوں کی جگہوں سے کٹے پھٹے جسمانی اعضاء ملے تھے اور ان کی شناخت مشکل تھی۔اس لیے پہلے متعلقہ اداروں اور مردہ خانوں نے ہلاکتوں کے غلط اعدادوشمار  جاری کیے تھے اور ان کی تعداد ایک سو زیادہ بتائی تھی ۔نائب وزیر دفاع رووان وجے وردھنے نے خودکش بم دھماکوں میں مہلوکین کے نئے سرکاری اعداد وشمار  جاری کیے ہیں اور253 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

سری لنکا کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل انیل جاسنگھے نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد  تخمیناً جاری کی گئی تھی۔یہ تعداد 250 یا260 ہوسکتی ہے کیونکہ  بہت زیادہ  جسمانی اعضاء بکھرے پڑے ملے تھے،اس لیے مہلوکین کی کوئی حتمی  تعداد جاری کرنا مشکل ہے۔

کولمبو اور ساحلی شہر نیگومبو ، کٹواپٹیا اور باٹی کلووا میں ایسٹر کے موقع پر تین گرجا گھروں اور چار ہوٹلوں کو بم حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔اس وقت مسیحی برادری کے لوگ اپنی دعائیہ تقریبات میں مصروف تھے ۔مہلوکین میں ڈچ، امریکی اور برطانوی شہریوں سمیت 35 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔بم دھماکوں میں قریباً پانچ سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سیکریٹری دفاع کا استعفا

قبل ازیں سری لنکا کے ایوان صدر نے جمعرات کو ایک بیان میں سیکریٹری دفاع ہیماسری فرنینڈو کے استعفے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی جگہ نئے وزیر دفاع کے تقرر تک کام کرتے رہیں گے۔

مستعفی سیکریٹری دفاع نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے گذشتہ اتوار کو ملک میں خودکش بم حملوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے عہدہ چھوڑا ہے۔ان حملوں میں ان کی ذاتی طور پر تو کوئی ناکامی نہیں تھی لیکن وہ اپنی سربراہی میں بعض اداروں کی ناکامی کی ذمے داری قبول کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی ایجنسیاں ممکنہ حملوں کے بارے میں انٹیلی جنس اطلاعات پر فعال انداز میں اپنے ردعمل کا اظہار کررہی تھیں اور تمام ایجنسیاں ہی کام کررہی تھیں۔

صدر میتھری سری سینا نے دارالحکومت کولمبو اور دوسرے مقامات میں واقع تین ہوٹلوں اور تین گرجا گھروں میں تباہ کن بم دھماکوں کے دو روز بعد منگل کو ایک نشری بیان میں سکیورٹی فورسز میں رد وبدل کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے بدھ کو سیکریٹری دفاع اور قومی پولیس سربراہ سے کہا تھا کہ وہ اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں۔

بعض حکومتی عہدے داروں نے تسلیم کیا ہے کہ بعض انٹیلی جنس یونٹوں کے پاس ان بم دھماکوں سے قبل ممکنہ حملوں کی اطلاعات تھیں۔ صدر سری سینا کا کہنا ہے کہ انھیں ان انٹیلی جنس اطلاعات کے بارے میں اندھیرےمیں رکھا گیا تھا ۔انھوں نے اس ناکامی کے ذمے دار حکام کے خلاف سخت کارروائی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

سری لنکا میں حکام نے اب تک ایسٹر کے موقع پر پے درپے بم دھماکوں کے الزام میں 76 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ان میں ایک شامی اور بعض پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے ان بم حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔حکام گرفتار مقامی اور غیر ملکی افراد سے ان کے بیرون ملک کسی گروپ یا افراد سے روابط کی بھی تحقیقات کررہے ہیں ۔اب تک سری لنکن حکام نے دو مقامی اسلامی گروپوں کو ان بم دھماکوں کا مورد الزام ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ ان میں آٹھ خودکش بمبار ملوث تھے۔

درایں اثناء کولمبو میں امریکی سفارت خانے نے سری لنکا میں موجود اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ آیندہ اختتام ہفتہ پر ’’عبادت گاہوں‘‘ میں جانے سے گریز کریں کیوں کہ انتہا پسندوں کے ممکنہ حملوں کا خطرہ ہوسکتا ہے۔برطانیہ نے بھی اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سری لنکا کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

  • سری لنکا کے فوجی دارالحکومت کولمبو میں سینٹ انتھونی چرچ میں پہرا دے رہے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند