تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سری لنکا میں قتل عام میں‌ ملوث ایک دہشت گرد لندن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نکلا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 17 رمضان 1440هـ - 22 مئی 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 20 شعبان 1440هـ - 26 اپریل 2019م KSA 07:24 - GMT 04:24
سری لنکا میں قتل عام میں‌ ملوث ایک دہشت گرد لندن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نکلا
دبئی ۔ کمال قبیسی

سری لنکا میں ایسٹر تہوار کے موقع پرجن 9 دہشت گردوں کی طرف سے ہوٹلوں اور گرجا گھروں میں لوگوں‌ کا قتل عام کیا ان میں ایک کے بارے میں‌ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ وہ برطانیہ کے دارالحکونت لندن کی ایک یونیورسٹی سے پڑھا لکھا ہے۔ لندن یونیورسٹی سے پڑھا لکھا شخص بھی وحشیانہ قتل عام میں ملوث ہوسکتا ہے یقین کرنا مشکل ہے۔ اس رپورٹ سے منسلک ان 9 دہشت گردوں کے گروپ فوٹو میں ایک تصویر اس شدت پسند کی ہے جو لندن سے پڑھا لکھا ہے۔ انہوں‌ نے ایسٹر تہوار پر سری لنکا میں قیمت برپا کردی تھی جس کے نتیجےمیں 359 افراد ہلاک اور 500 سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔ ان میں سے بعض کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔

سری لنکا میں دہشت گردی میں ملوث لندن کے فاضل شخص کے حوالے سےالعربیہ ڈاٹ نیٹ نے روشنی ڈالی ہے۔ سری لنکا کے نائب وزیر دفاع Ruwan Wijeqwerdene سے بھی اس شدت پسند کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں‌نے اس کی شناخٹ عبداللطیف جمیل محمد کے نام سے کی ہے۔ اس حوالے سے برطانوی اخبارات میں بھی خبریں عام ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کوملنے والی اطلاعات کے مطابق عبداللطیف محمد نے سنہ 2006ء اور 2007ء کےدوران برطانیہ کہ 'کنسٹن' یونیورسٹی سے فلائیٹ انجینیرنگ کاایک سالہ ڈپلومہ کیا۔ اس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے آسٹریلیا کےشہر ملبرن چلا گیا۔ سری لنکن پولیس کا کہنا ہے کہ عبداللطیف محمد ان 9 شدت پسندوں میں سے ایک تھا جنہوں‌نے خود کش حملوں سے ایسٹر کےموقع پر قتل عام کیا۔ ان میں ایک خاتون شدت پسند بھی شامل تھی جس نے خود کو اس وقت دھماکے سے اڑا دیاجب پولیس نےاس کےفلیٹ پر چھاپہ مارا۔

پولیس کی تحقیقات کےمطابق حملہ آوروں میں سے بیشتر انتہائی غریب طقبے سےتعلق رکھتےتھے۔ان میں زھران ھاشم سب سےزیادہ غریب تھا۔اس نے اپنے ساتھیInshan Seelavan کےہمراہ Shangri-La ہوٹل پرحملہ کیا۔

حکام کے مطابق ملائیشیا سے تعلق رکھنے والا زھران ھاشم دہشت گردی کا منصوبہ ساز تھا۔ جو خاتون فلیٹ پرچھاپے کے دوران ہلاک ہوئی وہ اس کی بیوی تھی۔ دھماکے کےنتیجے میں زھران کی ایک ہمشیرہ بھی ہلاک ہوگئی۔

ملائیشیا کے ذرائع ابلاغ نے ذرائع کے حوالےسے خبر دی ہےکہ سری لنکن سیکیورٹی حکام نے ایک مسلمان وزیرکو بھی شامل تفتیش کیا ہے تاہم اس کا نام ظاہر نہیں‌کیا گیا۔ دھماکوں‌کے بعد سری لنکن پولیس نے شبے میں 60 افراد کو حراست میں لیا جن میں سے 28کو رہا کردیا گیا اور 32 تا حال گرفتار ہیں۔ ان میں ایک صاحب ثروت کاروباری شخصیت محمد یوسف ابراہیم شامل ہیں۔ ان کے دو بیٹے 33 سالہ امساث احمد اور 31 سالہ الھام اصغیر بھی بم دھماکے کرنے والوں میں‌شامل ہیں۔
 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند