تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
صبر کی ایک حد ہوتی ہے ، ادلب میں دہشت گردوں کا دائمی وجود قبول نہیں : لاؤروف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 ربیع الاول 1441هـ - 14 نومبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 24 شعبان 1440هـ - 30 اپریل 2019م KSA 10:58 - GMT 07:58
صبر کی ایک حد ہوتی ہے ، ادلب میں دہشت گردوں کا دائمی وجود قبول نہیں : لاؤروف
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے باور کرایا ہے کہ صبر کی ایک حد ہوتی ہے ، ادلب اور شام کے بعض علاقوں میں دہشت گردوں کا ہمیشہ کے لیے باقی رہنا قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے یہ بات پیر کے روز بنگلہ دیشی وزیر خارجہ ابو الکلام عبدالمؤمن کے ساتھ اپنی بات چیت کے اختتام پر کہی۔ لاؤورف کا کہنا تھا کہ "ہم ادلب میں سیف زون میں (النصرہ فرنٹ سے متعلق) مسئلے کے حل کے واسطے روس اور ترکی کے بیچ معاہدے کو یقینی بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ جیسا کہ صدر پوتین کہہ چکے ہیں کہ یقینا ہمارے لیے یہ بات قبول کرنا ممکن نہیں کہ یہ دہشت گرد وہاں اس طرح رہیں گویا کہ وہ حیوانی حیات کے ایک قدرتی مقام پر ہوں اور ان کو نقصان پہنچانا جائز نہ ہو"۔

انہوں نے مزید کہا کہ شامی حکومت اس بات کا پورا حق رکھتی ہے کہ اپنی اراضی پر موجود شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے ،،، اور تمام علاقوں کو دہشت گردی سے پاک کرے۔

لاؤروف کے مطابق انہوں نے عفرین کی دیوار کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ نے باور کرایا ہے کہ شمالی شام میں دہشت گردی کے خلاف اس کے تمام اقدامات عارضی ہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت دُہرا معیار نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف تو خفیہ جیلوں اور گوانتانامو میں انسداد دہشت گردی کے معاملات اور جبری گرفتاریوں سے نمٹا جا رہا ہے اور دوسری طرف امریکا ،،، سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کی حراست میں موجود غیر ملکی جہادیوں کی رہائی کے امکان کی بات کر رہا ہے۔

لاؤروف کے مطابق یورپی ممالک ان مجرموں کو واپس لینے سے انکار کر رہے ہیں اور یہ بھی سنا گیا ہے کہ یہ ممالک عراق کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان لوگوں کو اپنے پاس رکھے۔

دوسری جانب شام کے لیے روسی صدر پوتین کے خصوصی ایلچی الیگزینڈر لاؤرنتیف نے واضح کیا ہے کہ شام کا بحران حل کرنے کے لیے نئے خیالات کی ضرورت ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند