تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
طالبان کا دوحہ میں امریکا کے ساتھ "بات چیت کے نئے دور" کا اعلان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 21 ذوالحجہ 1440هـ - 23 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 25 شعبان 1440هـ - 1 مئی 2019م KSA 12:55 - GMT 09:55
طالبان کا دوحہ میں امریکا کے ساتھ "بات چیت کے نئے دور" کا اعلان
دبئی ـ العربیہ ڈاٹ نیٹ

قطر میں آج بدھ کے روز افغان تحریک طالبان اور امریکا کے درمیان بات چیت کا چھٹا دور شروع ہو رہا ہے۔ یہ بات طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتائی۔

اس حوالے سے کابل میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم امریکی وزارت خارجہ اس سے قبل یہ بتا چکی ہے کہ افغانستان کے لیے ان کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد رواں ماہ طالبان نمائندوں سے ملاقات کے لیے قطر کا دورہ کریں گے۔

فریقین کے درمیان ایک امن معاہدے تک پہنچنے کے واسطے کئی اجلاس ہو چکے ہیں۔ اس دوران طالبان اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردی کی آماجگاہ کے طور پر استعمال ہونے سے روک دیا جائے گا اور اس کے مقابل ملک سے غیر ملکی افواج کا انخلا عمل میں لایا جائے۔

ابھی تک بات چیت کے کسی بھی دور میں افغان حکومت شامل نہیں ہوئی جس کو طالبان واشنگٹن کے ہاتھوں میں موجود محض ایک آلہ کار شمار کرتے ہیں۔

طالبان تحریک کو 17 برس سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے امریکا سے ایک معاہدے کے تحت کسی بھی دائمی فائر بندی سے قبل افغان سیاست دانوں اور قبائلی عمائدین کے ساتھ ایک سمجھوتا کرنا ہو گا۔

زلمے خلیل زاد نے گزشتہ ہفتے ماسکو کا دورہ کیا تھا جہاں روس اور چین نے امریکا کے امن منصوبے کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک نے "داخلی افغان بات چیت" پر زور دیا جس میں افغانستان میں تمام فریق شامل ہوں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند