تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
F-1 موٹر ریسنگ میں جیت کی ہیٹرک بنانے والے عالمی چیمپئن نکی لاؤڈا چل بسے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 شوال 1440هـ - 20 جون 2019م
آخری اشاعت: منگل 16 رمضان 1440هـ - 21 مئی 2019م KSA 13:49 - GMT 10:49
F-1 موٹر ریسنگ میں جیت کی ہیٹرک بنانے والے عالمی چیمپئن نکی لاؤڈا چل بسے
ایجنسیاں

موٹر ریسنگ کی شائقین کے لئے بری خبر یہ ہے کہ اس خطرناک کھیل میں دنیا بھر میں اپنا لوہا منوانے والے لیجنڈ نکی لاؤڈا نیند کی حالت میں انتقال کر گئے۔

نکی لاؤڈا تین مرتبہ فارمولا ون موٹر ریسنگ کے عالمی چیمپئن رہے تھے، ایک بار وہ ریس کے دوران ایک انتہائی خطرناک حادثے میں تقریباﹰ موت کے منہ میں جا کر معجزانہ طور پر واپس لوٹے تھے اور ان کے جسم کا کافی زیادہ حصہ بری طرح جل گیا تھا۔

آگ کے ان شعلوں کے نشان ان کے جسم اور چہرے پر آخری وقت تک موجود تھے۔ اپنی تیسری عالمی چیمپئن شپ انہوں نے اس حادثے کے بعد دوبارہ اپنا کیریئر بحال کرتے ہوئے جیتی تھی۔

نکی لاؤڈا کا پورا نام آندریاز نکولاؤس لاؤڈا تھا اور نکی لاؤڈا انہیں پوری دنیا پیار سے پکارتی تھی۔ وہ صرف ایک بہت کامیاب اور شاندار کھلاڑی ہی نہیں بلکہ ایک انتہائی کامیاب بزنس مین بھی تھے۔ انہوں نے کئی فضائی کمپنیوں کی بنیاد بھی رکھی، کئی مرتبہ انہیں ہوش ربا نقصانات ہوئے، وہ حالات کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور بھی ہوئے لیکن وہ گرنے کے بعد ہر بار دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کے عادی تھے۔

اسی لیے ان کے انتقال پر بہت سے ماہرین اور ان کے قریبی دوست صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ موت کسی کو معاف نہیں کرتی۔ وہ جو کبھی کسی سے نہیں ہارا تھا، جس نے کبھی شکست تسلیم نہیں کی تھی، وہ بھی ہار گیا۔ پیدائشی طور پر آسٹریا کے دارالحکومت ویانا سے تعلق رکھنے والے نکی لاؤڈا 70 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

گذشتہ برس موسم گرما میں نکی لاؤڈا کے ایک پھیپھڑے کی پیوند کاری بھی ہوئی تھی اور اس کے بعد سے ہی ان کی صحت خراب رہنے لگی تھی، وہ دوبارہ کبھی پوری طرح صحت یاب نہ ہو سکے۔ انہوں نے اپنی 70 ویں سالگرہ اس سال 22 فروری کو منائی تھی۔ کل پیر 20 مئی کو نکی لاؤڈا کا انتقال ہو گیا۔

انہوں نے اپنے پسماندگان میں ایک بیوہ اور پانچ بچے چھوڑے ہیں۔ جرمنی اور آسٹریا میں کھیلوں کے شعبے سے وابستہ شخصیات اور موٹر ریسنگ کی دنیا کے بین الاقوامی حلقے ان کے انتقال پر انتہائی افسردہ ہیں۔ وہ جو ہر طرح کے مشکل حالات سے ہمیشہ بچ نکلتا تھا، وہ بھی موت کے آگے ہار گیا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند