تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغانستان: دو فضائی حملوں میں پانچ خواتین سمیت 14 شہریوں کی ہلاکت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 15 ربیع الثانی 1441هـ - 13 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 18 رمضان 1440هـ - 23 مئی 2019م KSA 19:02 - GMT 16:02
افغانستان: دو فضائی حملوں میں پانچ خواتین سمیت 14 شہریوں کی ہلاکت
کابل ۔ ایجنسیاں

افغانستان میں گذشتہ چار روز میں دو فضائی حملوں میں چودہ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یوناما)نے جمعرات کو ایک بیان میں ان ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔

مشن کے مطابق مہلوکین میں پانچ خواتین اور سات بچے شامل ہیں ۔ وہ جنوبی صوبے ہلمند میں 20 مئی اور شمالی صوبہ کنٹر میں 22 مئی کو فضائی بمباری میں مارے گئے تھے۔یوناما نے ٹویٹر پر کہا ہے کہ ’’ افغانستان میں فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتیں بڑھتی جارہی ہیں۔(متحارب) فریقوں کو شہریوں کو تحفظ مہیا کرنے اور نقصان پہنچانے سے بچانے کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کو پورا کرنا چاہیے‘‘۔

افغانستان کی اپنی فضائیہ زبوں حال ہے اور بیشتر فضائی حملے امریکا کے لڑاکا طیارے یا اس کے اتحادی ممالک کے لڑاکا طیارہ کرتے ہیں۔افغانستان میں امریکی فوج نے ان حالیہ فضائی حملوں کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔اس سے پہلے 16 مئی کو افغانستان کے جنوبی علاقے میں امریکی فورسز کے ایک ’’ دوستانہ حملے‘‘ میں آٹھ پولیس افسر ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکی فضائیہ کی مرکزی کمان کے مطابق امریکا نے افغانستان میں 2018ء میں 7362 بم گرائے تھے ۔2010ء کے بعد جنگ زدہ ملک میں امریکی فضائیہ کے گرائے گئے بموں کی یہ سب سے زیادہ تعداد تھی۔

اپریل میں یوناما نے ایک رپورٹ شائع کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ پہلی مرتبہ امریکا یا حکومت نواز فورسز کی زمینی اور فضائی کارروائیوں میں سب سے زیادہ تعداد میں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ان ہلاکتوں کی تعداد طالبان یا دوسرے مزاحمت کار گروپوں کے ہاتھوں مرنے والے شہریوں سے زیادہ ہے۔

یوناما کے مطابق 2019ء کے پہلے تین ماہ کے دوران میں بین الاقوامی اور حکومت نواز افواج کی جنگی کارروائیوں میں 305 شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں جبکہ مزاحمت کار گروپوں کی کارروائیوں میں مرنے والے شہریوں کی تعداد 227 تھی۔

امریکا نے اس وقت افغانستان میں مزاحمتی گروپوں کے خلاف فضائی حملے تیز کر رکھے ہیں جبکہ وہ دوسری جانب طالبان سے کسی امن معاہدے کے لیے مذاکرات بھی کررہا ہے۔ طالبان کا اس وقت 2001ء کے بعد جنگ زدہ ملک کے بیشتر علاقوں پر کنٹرول ہوچکا ہے اور صدر اشرف غنی کی حکومت کی عمل داری محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

یوناما کا کہنا تھا کہ وہ امریکا کے فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کررہا ہے۔امریکا کا موقف ہے کہ وہ افغانستان کے مغربی علاقے میں منشیات تیار کرنے والی جگہوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن ان میں ہلاکتیں عام شہریوں کی ہورہی ہیں۔تاہم صوبہ نیمروز اور فراہ میں فضائی حملوں میں ہیروئین اور دوسری منشیات تیار کرنے والی دسیوں فیکٹریوں کو مئی کے اوائل میں فضائی حملوں میں تباہ کردیا گیا تھا ۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند