تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
روس کی طالبان اور افغان سیاست دانوں کو ماسکو میں مذاکرات کی دعوت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م
آخری اشاعت: پیر 22 رمضان 1440هـ - 27 مئی 2019م KSA 16:48 - GMT 13:48
روس کی طالبان اور افغان سیاست دانوں کو ماسکو میں مذاکرات کی دعوت
افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی اور سابق نائب صدر محمد یونس قانونی ماسکو میں طالبان سے فروری میں مذاکرات کے موقع پر گفتگو کررہے ہیں۔
ماسکو ۔ایجنسیاں

روس نے افغان سیاست دانوں کو ماسکو میں طالبان کے ساتھ غیر رسمی مذاکرات کی دعوت دی ہے۔اس ملاقات کا اہتمام افغانستان اور روس کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی صدی پوری ہونے پر آج سوموار اور منگل کو کیا جارہا ہے۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کی صدی تقریب میں شرکت کے لیے وفد بھیجنے کی تیار ی کررہے ہیں لیکن انھوں نے اس ضمن میں مزید تفصیل نہیں بتائی۔

افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے ترجمان نے یہ اطلاع دی ہے کہ کونسل کے سربراہ کریم خلیلی اس تقریب میں شرکت کریں گے۔افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی بھی ان مذاکرات میں شرکت کررہے ہیں۔ان کے ترجمان یوسف سہا کا کہنا ہے کہ افغان اور طالبان وفود تقریب کے موقع پر غیر رسمی بات چیت کے لیے مل بیٹھ سکتے ہیں لیکن فی الوقت اس غیر رسمی بات چیت کے وقوع پذیر ہونے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

اگر دونوں فریق ایک مرتبہ پھر ماسکو میں بات چیت کرتے ہیں تو یہ ان کے وہا ں مل بیٹھنے کا دوسرا موقع ہو گا۔قبل ازیں فروری میں طالبان اور افغانستان کی حزبِ اختلاف کے قائدین کے درمیان ماسکو میں جنگ زدہ ملک میں جاری بحران کے حل کے لیے بات چیت ہوئی تھی۔ان کے اکٹھے نماز ادا کرتے اور کھانے کی میز پر گفتگو کرتے ہوئے تصاویر بھی جاری کی گئی تھیں ۔

تاہم ان غیر رسمی مذاکرات میں افغان صدر اشرف غنی کی انتظامیہ کا کوئی نمایندہ شریک نہیں تھا جس کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ افغان حکومت کو امن عمل سے یکسر بے دخل کیا جارہا ہے کیونکہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان الگ سے جاری براہ راست مذاکراتی عمل میں بھی افغان حکومت کو فی الوقت شریک نہیں کیا جارہا ہے۔

دوحہ میں امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد اور طالبان میں مذاکرات کا چھٹا دور چند ہفتے قبل ختم ہوا تھا لیکن ان میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔طالبان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے غیرملکی فوجوں کے انخلا کے بنیادی سوال پر امن مذاکرات غیر یقینی کی صورت حال سے دوچار ہوئے تھے۔اس دوران میں افغانستا ن میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔امریکی فوج نے اپنے فضائی حملے اور طالبان نے اپنی مزاحمتی کارروائیوں کو تیز کردیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند