تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
رابطہ عالمِ اسلامی کی’’مکہ دستاویز ‘‘کا اجرا،مسلم معاشروں میں امن و رواداری کے فروغ پر زور
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 17 ذیعقدہ 1440هـ - 20 جولائی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 24 رمضان 1440هـ - 29 مئی 2019م KSA 22:04 - GMT 19:04
رابطہ عالمِ اسلامی کی’’مکہ دستاویز ‘‘کا اجرا،مسلم معاشروں میں امن و رواداری کے فروغ پر زور
رابطہ عالمِ اسلامی کے مکہ مکرمہ میں منعقدہ اجلاس کے شرکاء۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

رابطہ عالم اسلامی نے مکہ مکرمہ میں اپنے اختتامی اجلاس کے موقع پر ’’ مکہ دستاویز‘‘ جاری کی ہے ،اس میں مسلم معاشروں کے مختلف طبقات کے درمیان رواداری اور پُر امن بقائے باہمی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

یہ دستاویز اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے  دو روز قبل جاری کی گئی ہے۔ یہ سات صفحات کو محیط ہے اور اس میں انتیس مختلف اسلامی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ان کے ساتھ رواداری اور مساوات کے فروغ اور منافرت پھیلانے والے مبلغین کی حوصلہ شکنی کے لیے رہ نماہدایات دی گئی ہیں ۔ نیز کسی فرقے کے پیروکاروں کو کم تر خیال کرنے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔

ابتدائی صفحہ میں دستاویز کو مقدس شہر مکہ مکرمہ سے جاری کرنے کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے کہ اس کو کیوں دنیا بھر میں بسنے والے ایک ارب ساٹھ کروڑ مسلمانوں کے قبلہ کے مقام سے جاری کیا جارہا ہے۔

اس میں اسلام کے خلاف منافرت پھیلانے کی روک تھام کے لیے تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’’اسلامو فوبیا اسلام کو حقیقی طور نہ جاننے کا نتیجہ ہے۔اسلام کو درست طور پر جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا معروضیت سے مطالعہ کیا جائے اور کوئی بے بنیاد حکم لگانے سے گریز کیا جائے ‘‘۔

دستاویز میں دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت اور بالخصوص سیاسی بالادستی ، اقتصادی لالچ یا فرقہ وار نظریات کی حوصلہ افزائی کے ذریعے دخل اندازی کو مسترد کیا گیا ہے۔

اس میں کسی خاص دین کو اس کے پیروکاروں کے سیاسی اعمال سے جوڑنے سے متعلق امور کا بھی احاطہ کیا گیا ہے اور اس حقیقت پر زور دیا گیا ہے کہ توحید پر مبنی تینوں بڑے ادیان کا ان کے پیروکاروں کی منفی سرگرمیوں اور اعمال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دین اور ثقافت سے متعلق تنازعات کے خاتمے کے لیے دستاویز میں نفرت پھیلانے والے مبلغین اور تشدد اور دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

دستاویز کے انتیس میں سے ایک اصول میں کہا گیا ہے کہ ’’ یہ ہر کسی کی ذمے داری ہے کہ وہ دہشت گردی اور جبرواستبداد سے نمٹنے کے لیے کردار ادا کرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مسترد کردے۔اس میں اسلام میں خواتین کے حقوق پر زور دیا گیا ہے ۔بالخصوص ان حقوق کے مذہبی ، سائنسی ، سیاسی اور سماجی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا تھا اور جنس کی بنیاد پر اجرتوں میں تفریق کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔

اس دستاویز کا تصور ’’میثاقِ مدینہ‘‘ سے ملتا جلتا ہے۔پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کا یہود اور مقامی آبادی سے ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ تاریخ میں یہ میثاقِ مدینہ کے نام سے معروف ہے۔ یہ ایک آئینی دستاویز تھی جس کا مقصد ریاست مدینہ میں آباد مختلف عناصر اور طبقات کے درمیان اتحاد ویگانگت کو فروغ دینا اور پُرامن بقائے باہمی کے اصول کی بنیاد پر مل جل کر رہنے کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔
 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند