تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جاپان میں ملازم خواتین نے ’’اونچی ایڑھی‘‘ کے خلاف بغاوت کر دی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: منگل 30 رمضان 1440هـ - 4 جون 2019م KSA 10:33 - GMT 07:33
جاپان میں ملازم خواتین نے ’’اونچی ایڑھی‘‘ کے خلاف بغاوت کر دی
اونچی ایڑھی والا جوتا پہننے کا حکم صنفی امتیاز اور جنسی ہراسگی ہے: درخواست میں موقف
ایجنسیاں

جاپان میں دفاتر میں کام کرنے والی خواتین نے اونچی ایڑھی والے جوتے لازمی پہننے کے حکمنامے کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا ہے اور وہ ختم ٹھونک کر میدان میں آ گئی ہیں۔

خواتین ملازمین کے ایک گروپ نے حکومت سے درخواست کی ہے جس میں انہوں نے کمپنیوں کے اونچی ایڑھی والا جوتا پہننے والے حکم کو صنفی امتیاز اور جنسی ہراسگی کے مترادف ٹھہرایا ہے۔

درخواست اداکارہ اور مصنفہ یومی اشیکاوا نے داخل کروائی جس میں انہوں نے ایسے قوانین متعارف کروانے کا مطالبہ کیا جن کے تحت کمپنیوں کو منع کیا جائے کہ وہ خواتین ملازمین کو ایڑھی والے جوتے پہننے کا پابند نہ کریں۔

کمپنیوں کے اس امتیازی سلوک کے خلاف یومی اشیکاوا نے ٹویٹر پر ’کوٹو‘ نامی تحریک بھی شروع کی تھی جس کو خواتین میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس تحریک کو اب تک کم از کم 19 ہزار ٹویٹر صارفین کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔

'کوٹو' جاپانی کے دو الفاظ ’کٹسو‘ اور ’کٹسوو‘ کی مختصر شکل ہے۔ کٹسو کے معنی ’جوتے‘ اور کٹسوو کے ’تکلیف‘ کے ہیں۔ اس مہم میں حصہ لینے والی خواتین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کمپنیوں کی جانب سے اونچی ایڑھی پہننے کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور خواتین کو مجبوراً اس کو اپنانا پڑتا ہے۔

خیال رہے کہ 2015 میں کینز فلم فیسٹیول کے موقعے پر ایک خاتون کو اونچی ایڑھی والی جوتی نہ پہننے پر ریڈ کارپٹ پر نہیں چلنے دیا گیا تھا جس کے بعد کینز فلم فیسٹیول کے ڈائریکٹر کو معذرت کرنا پڑی تھی۔

2017 میں کینیڈا کی برٹش کولمبیا سٹیٹ نے کمپنیوں کو منع کیا تھا کہ وہ خواتین ملازمین کو اونچی ایڑھی کے سینڈل پہننے پر مجبور مت کریں۔ کولمبیا سٹیٹ نے اس عمل کو خطرناک اور امتیازی قرار دیا تھا۔
 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند