تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
روس سے ایس -400 میزائل دفاعی نظام کی جولائی میں آمد شروع ہوجائے گی: ترک صدر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 12 شوال 1440هـ - 16 جون 2019م KSA 19:20 - GMT 16:20
روس سے ایس -400 میزائل دفاعی نظام کی جولائی میں آمد شروع ہوجائے گی: ترک صدر
ترک صدر رجب طیب ایردوآن
استنبول ۔ ایجنسیاں

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ رو س سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام کی جولائی کے پہلے پندرھواڑے میں ملک میں آمد شروع ہو جائے گی۔

نشریاتی ادارے این ٹی وی کے مطابق صدر ایردوآن نے تاجکستان کے دورے سے واپسی پر اپنے ہمراہ طیارے میں سفر کرنے والے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے روس سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ درحقیقت یہ معاملہ حل ہو چکا ہے‘‘۔ انھوں نے تاجکستان میں روسی صدر ولادی میر پوتین سے بھی بات چیت کی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’میرے خیال میں جولائی کے پہلے نصف میں ان (میزائل نظام) کی آمد شروع ہو جائے گی‘‘۔ترک صدر سے پہلے گذشتہ ہفتے کریملن کے مشیر یوری اُشاکوف نے کہا تھا کہ روس جولائی میں اپنا ساختہ میزائل دفاعی نظام ایس -400 ترکی کے حوالے کردے گا۔

امریکا کے قائم مقام سیکریٹری دفاع پیٹرک شناہن نے اسی ماہ یہ کہا تھا کہ اگر ترکی روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے سے دستبردار نہیں ہوتا تو اس کو ایف 35 لڑاکا جیٹ پروگرام سے خارج کردیا جائے گا۔

صدر ایردوآن کا کہنا ہے کہ وہ جی 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس معاملے پر بات چیت کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ جب کبھی کسی نے متنازعہ بات چیت کی ہے تو ہم نے فوری صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے اور ٹیلی فون سفارت کاری کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی ہے‘‘۔

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے رکن ممالک کا کہنا ہے کہ روس کا یہ میزائل نظام ان کے فوجی اتحاد سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔ امریکا ترکی کے روس سے اس میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے پر سخت نالاں ہے اور اس نے ترکی کو یہ دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر وہ روس کے ساتھ طے شدہ اس سودے سے دستبردار نہیں ہوتا تو وہ اس کے ساتھ ایف 35 لڑاکا جیٹ طیاروں کی خریداری اور اس کے فاضل پرزوں کی تیاری کے پروگرام سے دستبردار ہوجائے گا۔ نیز اس پر سخت پابندیاں عاید کردے گا۔

لیکن ترکی امریکا کی ان دھمکیوں کے باوجود روس سے میزائل دفاعی نظام خرید کرنے پر مُصر رہا ہے۔ اس کا موقف ہے کہ وہ اپنی علاقائی خودمختاری کے دفاع کے لیے یہ میزائل نظام خرید کر رہا ہے اور اس کے اقدامات سے اس کے اتحادیوں کو کوئی خطرات لاحق نہیں ہوں گے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند