تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترک انٹیلی جنس اہلکار کو نائن الیون حملوں کا 40 دن پہلے کیسے پتا چلا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 ربیع الاول 1441هـ - 14 نومبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 13 شوال 1440هـ - 17 جون 2019م KSA 12:12 - GMT 09:12
ترک انٹیلی جنس اہلکار کو نائن الیون حملوں کا 40 دن پہلے کیسے پتا چلا؟
منشیات کے تاجر مصطفیٰ کی قبل از وقت وارننگ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا: محمد ایمور
العربیہ ڈاٹ نیٹ

ترکی کے محکمہ سراغرسانی میں انسداد دہشت گردی ونگ کے ایک سابق عہدہ دار محمد ایمور نے دعویٰ کیا ہے کہ ترک خبر رساں اداروں کو 11 ستمبر 2001ء کو امریکا میں‌ ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں 40 دن پہلے علم ہو چکا تھا مگراُنہیں سنجیدہ نہیں لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا ’’کہ انقرہ کو یہ معلومات ترکی میں منشیات کے ایک تاجر مصطفیٰ کے ذریعے حاصل ہوئی تھیں۔‘‘ مسٹر ایمور نے دعویٰ‌ کیا کہ ’’وہ بعض ملکوں میں جاسوس کے طور پر کام کرتے رہے ہیں تاہم انہوں‌ نے ان ملکوں‌ کا نام نہیں لیا۔‘‘ محمد ایمور نے یہ لرزہ خیز انکشافات اپنی تازہ نئی 'رازوں کا افشاء' میں کیا۔

وہ لکھتے ہیں ’’کہ نائن الیون کا واقعہ رونما ہونے سے چالیس دن قبل مجھے اس کا علم ہو گیا تھا۔ ہم نے اس حوالے سے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی  اور اپنے ساتھیوں کو آگاہ کیا مگر انہوں نے اس انتباہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اگر انٹیلی جنس ادارے ان کی وارننگ کو سنجیدگی سے لیتے تو دہشت گردانہ حملے میں ہزاروں‌ افراد کو بچایا جا سکتا تھا۔

خیال رہے کہ گیارہ ستمبر 2001ء کو نیویارک کے علاقے مین ہٹن کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں جڑواں ٹاورز پر جہازوں کے ذریعے کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں القاعدہ کو ملوث بتایا جاتا ہے مگر اس حوالے سے کئی اور مفروضے اور کہانیاں بھی مشہور ہیں۔ ترک انٹیلی جنس کے سابق اہلکار کا حالیہ انکشاف ان مفروضوں اور قیاس آرائیوں پر مبنی کہانیوں میں ایک نیا اضافہ ہے۔

محمد ایمور اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’’انہیں نائن الیون کے رونما ہونے سے 40 دن پہلے علم ہوا، مگر ہم ان حملوں کو نہیں روک پائے جس کے نتیجے میں 2996 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہمیں نائن الیون کے حملوں کی منصوبہ بندی کی خبر منشیات کے ایک تاجر مصطفیٰ کے ذریعے پہنچی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم نے مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی کو معلومات فراہم کیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں ان سے ایک انتہائی اہم موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے درمیان ملاقات کا وقت طے پا گیا۔ دو روز بعد یعنی 2 اگست کو ایک خاتون اور ایک اجنبی شخص ہمارے پاس آئے۔ میں‌ نے مصطفیٰ سے کہا کہ وہ ہوٹل میں میرا انتظار کریں۔ ہو سکتا ہے کہ مرکزی انٹیلی جنس کے لوگ آپ سے ملنا چاہیں گے۔ ہم نے انٹیلی جنس حکام سے ترکی زبان میں بات کی اور انہیں اس حوالے سے اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا۔

محمد ایمور نے کہا کہ چالیس روز قبل ملنے والی اطلاع کو کسی نے سنجیدگی سے نہیں‌ لیا جس کے نتیجے میں گیارہ ستمبر کو تین ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اگر مصطفیٰ‌ کی بات کو سنجیدگی سے لیا جاتا تو امریکا تباہی سے بچ جاتا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند