تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب کا دو بحری حملوں کے بعد عالمی برادری سے آبی گذرگاہوں کو محفوظ بنانے کا مطالبہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 16 ذیعقدہ 1440هـ - 19 جولائی 2019م
آخری اشاعت: منگل 14 شوال 1440هـ - 18 جون 2019م KSA 19:28 - GMT 16:28
سعودی عرب کا دو بحری حملوں کے بعد عالمی برادری سے آبی گذرگاہوں کو محفوظ بنانے کا مطالبہ
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کی کابینہ نے عالمی طاقتوں سے خلیج عُمان میں تیل بردار بحری جہازوں پر حالیہ دو حملوں کے بعد خطے بھر میں آبی گذرگاہوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ’’ کابینہ نے توانائی کی مارکیٹ اور عالمی معیشت کو لاحق خطرات کے پیش نظر خطے میں آبی گذرگاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فیصلہ کن اقدام پر زور دیا ہے‘‘۔

گذشتہ جمعرات کو دو ٹینکروں مارشل آئس لینڈ کے پرچم بردار ناروے کے زیر انتظام فرنٹ آلٹیر اور پاناما کے پرچم بردار جاپان کے ملکیتی کوکوکا کورجیئس کو خلیج عُمان میں آبنائے ہُرمز کے نزدیک بین الاقوامی پانیوں میں تخریبی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ان میں اول الذکر جہاز ایک آبی بم ( تارپیڈو) سے ٹکرایا تھا اور اس کے ایک حصے کو آگ لگ گئی تھی۔موخرالذکر بحری جہاز پر آتش گیر مواد میتھانول لدا ہوا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرے عہدے داروں نے ایران کو نئے آبی حملے کا مورد الزام ٹھہرایا تھا اور کہا تھا کہ اس کارروائی میں ہر طرح سے ایران کا ہاتھ کارفرما ہے لیکن ایران نے اس الزام کی تردید کی تھی ۔ صدر ٹرمپ نے ایران کی ان حملوں میں ملوّث ہونے کی تردید کو مسترد کردیا ہے ۔ گذشتہ ماہ بھی اسی علاقے میں امارت فجیرہ کے نزدیک خلیج عُمان میں چار تیل بردار بحری جہازوں پر بارودی سرنگوں سے حملہ کیا گیا تھا۔ان میں دو سعودی عرب کے ملکیتی تھے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اتوار کو ان حملوں کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں کہا تھا کہ وہ مملکت کو لاحق کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے کسی اقدام سے گریز نہیں کریں گے۔ انھوں نے ایران کو ان دونوں حملوں کا ذمے دار قرار دیا تھا۔

سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے سوموار کو ایک بیان میں عالمی طاقتوں پر زور دیا تھا کہ وہ تیل اور توانائی کے دوسرے ذرائع کی رسد کو برقرار رکھنے کی غرض سے آبی گذرگاہوں کو کھلا رکھنے کے لیے تعاون کریں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند