تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سوڈان کے فوجی حکمراں کی احتجاجی تحریک کے لیڈروں سے غیر مشروط مذاکرات کی اپیل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 21 ذیعقدہ 1440هـ - 24 جولائی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 15 شوال 1440هـ - 19 جون 2019م KSA 22:36 - GMT 19:36
سوڈان کے فوجی حکمراں کی احتجاجی تحریک کے لیڈروں سے غیر مشروط مذاکرات کی اپیل
سوڈان کی حکمراں عبوری فوجی کونسل کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان ۔
خرطوم ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سوڈان کی حکمراں عبوری فوجی کونسل کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان نے احتجاجی تحریک کے لیڈروں سےانتقالِ اقتدار کے لیے غیر مشروط طور پر مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان نے بدھ کو سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی ایک تقریر میں اتحاد برائے تبدیلی اور آزادی اور تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا ہے کہ وہ آئیں اور ان کے ساتھ غیر مشروط طور پر مل بیٹھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ ہمیں بحران کے ایک ایسے حل کی ضرورت ہے جس سے تمام لوگ ہی مطمئن ہوں‘‘۔

احتجاجی تحریک کے لیڈروں نے دو ہفتے قبل خرطوم میں وزارت دفاع کے باہر دھرنے کے شرکاء کے خلاف فوجی وردیوں میں ملبوس اہلکاروں کے خونیں کریک ڈاؤن کے بعد فوجی کونسل کے لیڈروں سے مذاکرات معطل کردیے تھے اور تب سے طرفین میں تناؤ پایا جارہا ہے۔حکمراں جرنیل 11 اپریل کو سابق مطلق العنان صدر عمر حسن البشیر کی معزولی کے بعد کئی مرتبہ یہ کہہ چکے تھے کہ وہ دھرنے کے شرکاء کو منتشر نہیں کریں گے مگر ا س کے باوجود مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ایک سو سے زیادہ افرادہلا ک ہوگئے تھے۔

عبدالفتاح البرہان نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ ’’ ملک گذشتہ تین ماہ سے کسی حکومت کے بغیر چل رہا ہے۔حکومت کے عدم وجود سے سوڈانی عوام اور خارجہ پالیسی متاثر ہورہی ہے۔ہم یہ نہیں چاہتے کہ صورت حال کنٹرول سے باہر ہو۔ہم ایک اور بغاوت بھی نہیں چاہتے ہیں‘‘۔

حکمراں جرنیلوں نے گذشتہ ہفتے یہ اطلاع د ی تھی کہ فوجی کونسل کے خلاف بغاوت کی ایک سے زیادہ مرتبہ سازشیں کی جاچکی ہیں لیکن انھیں ناکام بنا دیا گیا تھا اور افسروں کے دو گروپوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ سوڈانی فوج نے خود عمر حسن البشیر کو 11 اپریل کو عوامی احتجاجی تحریک کے بعد معزول کردیا تھا اور ان کی حکومت کو چلتا کرنے کے بعد اقتدار سنبھال لیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند