تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کابل کے وسطی علاقے میں مسلح تصادم اور دھماکے، 65 افراد زخمی
طالبان نے پل محمود خان ایریا میں واقع وزارتِ دفاع کے لاجسٹک سینٹر کو نشانہ بنایا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 27 شوال 1440هـ - 1 جولائی 2019م KSA 12:07 - GMT 09:07
کابل کے وسطی علاقے میں مسلح تصادم اور دھماکے، 65 افراد زخمی
طالبان نے پل محمود خان ایریا میں واقع وزارتِ دفاع کے لاجسٹک سینٹر کو نشانہ بنایا
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

افغان حکام کے مطابق دارلحکومت کابل میں سوموار کے روز وزارت دفاع کے کمپلیکس کے قریب بارودی مواد سے لدے ٹرک میں دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورس اور مسلح حملہ آوروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں کم سے کم 65 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ رش کے اوقات میں گنجان آبادی والے علاقے میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ دار طالبان نے قبول کی ہے۔

ایک سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ وزارت دفاع کے انجینئرنگ اور سپلائی ونگ کے قریب دھماکے سے پہلے کم سے کم تین مسلح افراد کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے۔

کالعدم تحریک طالبان نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ دھماکا وزارت دفاع پر حملہ کرنے والے جنگجوؤں نے کیا تھا۔ بیان ک مطابق ’’حملے کا نشانہ وزارت دفاع کا لاجسٹک سینٹر تھا۔ اس کارروائی میں حملہ آوروں سمیت متعدد سرکاری عمال اور عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے بتایا کہ مسلح حملہ آوروں کی افغان سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔

وزارت صحت کے ترجمان وحید اللہ میار نے بتایا حملے میں نو بچوں سمیت 65 زخمی افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ فوری طور ملنے والی اطلاعات میں کسی کے ہلاک ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دھماکے کے بعد کابل شہر کی فضا میں دھویں کے بادل آسمان کی طرف اٹھتے دیکھے گئے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکے سے عمارت لرز اٹھی اور اس کے بعد وقفے وقفے بعد فائرنگ اور ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن کی آوازیں سنائی دینے لگی۔

قبل ازیں وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے میڈیا کو ارسال کردہ ٹیکسٹ میسج میں بتایا کہ ’’دھماکا صبح 08:55 بجے کابل کی محمود خان کالونی میں ہوا۔ وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق دسیوں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ ایمبولینسز مزید زخمیوں کو لینے جا رہی ہیں۔

دھماکا انتہائی رش کے اوقات میں علی الصباح ’’شمشاد ٹی وی‘‘ کے دفاتر کے قریب ہوا جس کے بعد ٹی وی کی نشریات کچھ دیر کے لئے رک گئیں۔ جس کالونی میں دھماکا ہوا وہیں فوجی عمارتوں سمیت افغان فٹبال اور کرکٹ کلب کے دفاتر واقع ہیں۔

دھماکا اس وقت ہوا جب ہفتے کے روز امریکا اور تحریک طالبان نے افغانستان مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لئے دوحا میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور شروع کیا۔ مذاکرات کے ساتھ تحریک طالبان کے حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جس میں کابل حکومت کی حامی ملیشیا کے 25 اہلکار مارے جا چکے ہیں۔

ستمبر میں طالبان کے ساتھ شروع کئے جانے والے مذاکرات میں دہشت گردی کے خاتمے، غیر ملکی فوج کی ملک میں موجودگی، مستقل سیز فائر کے لئے افغان گروپوں کے درمیان مذاکرات جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ طالبان بہ اصرار ملک سے غیر ملکی فوج کی واپسی چاہتے ہیں۔ نیز انھوں نے کابل کی افغان حکومت سے مذاکرات کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند