تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایک دہائی تک کومے میں رہنے والے شخص کو عدالتی حکم پر موت کی نیند سلا دیا گیا
مریض کو 'مصنوعی تنفس' کے ذریعے زندہ رکھنے پر اہل خانہ میں 10 سال تک تنازع جاری رہا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 9 ذیعقدہ 1440هـ - 12 جولائی 2019م KSA 18:57 - GMT 15:57
ایک دہائی تک کومے میں رہنے والے شخص کو عدالتی حکم پر موت کی نیند سلا دیا گیا
مریض کو 'مصنوعی تنفس' کے ذریعے زندہ رکھنے پر اہل خانہ میں 10 سال تک تنازع جاری رہا
اسٹراسبرگ ۔ ایجنسیاں

فرانس میں حادثے کے بعد مکمل طور پر مفلوج ہونے والے ایک مریض کو عدالت کے حکم پر موت کی نیند سلا دیا گیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق بیالیس سالہ وینسن لامبیر نامی شخص 10 سال پہلے موٹر سائیکل کے ایک حادثے کے باعث جسمانی اور ذہنی طور پر مفلوج ہو گیا تھا۔ اسے مسلسل کئی سال تک مصنوعی تنفس کے ذریعے زندہ رکھنے کی کوشش کی گئی۔ جمعرات کو اس کے ڈاکٹروں نے اس کا مزید علاج جاری رکھنے سے معذرت کر دی تھی۔

وینسن لامبیر کی اہلیہ راشل

ایک مقامی عدالت میں مریض کی اہلیہ اور اس کے والدین کی طرف سے الگ الگ وکلاء پیش ہوئے۔ مریض کی اہلیہ اپنے شوہر کی عدالتی حکم پر موت کے حق میں تھی جب کہ اس کے والدین اس کے خلاف تھے اور اسے مذہبی تعلیمات کے منافی قرار دے رہے تھے۔

وینسن لامبیر کی والدہ فیوان

ڈاکٹروں نے 2 جولائی کو لامبیر کو مصنوعی طریقے سے خوراک دینے کا عمل بھی روک دیا تھا۔ وینسن لامبیر کئی سال تک کومے میں رہا۔ شمال مشرقی فرانس کی ایک عدالت نے لامبیر کو مصنوعی طریقے سے موت دینے کی اجازت دے دی۔

وینسن لامبیر کا والد پییر

خیال رہے کہ فرانس میں کسی ایسے مریض جس کی زندگی بچانے کا کوئی امکان نہ رہے کو موت سے ہم کنار کرنے کی اجازت نہیں دیتا تاہم ڈاکٹروں کو یہ حق ہے کہ وہ کسی لاعلاج مریض کو موت کا انجکشن لگا سکتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند