تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاناما کی جانب سے مزید بحری جہازوں سے پرچم ہٹانے کا فیصلہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 10 ذیعقدہ 1440هـ - 13 جولائی 2019م KSA 08:12 - GMT 05:12
پاناما کی جانب سے مزید بحری جہازوں سے پرچم ہٹانے کا فیصلہ
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

پاناما میں سمندری نقل و حمل کی اتھارٹی نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ پاناما بین الاقوامی پابندیوں اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے مزید بحری جہازوں سے اپنا پرچم ہٹا لے گا۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران ایران اور شام سے تعلق رکھنے والے تقریبا 60 جہازوں کو پاناما کی اندراجی فہرست سے حذف کیا جا چکا ہے۔

دو باخبر ذریعوں کے مطابق پاناما کے سابق صدر خوان کارلوس وریلا نے اپنے ملک میں رجسٹرڈ جہازوں میں سے 59 کی رجسٹریشن حذف کرنے کے لیے گرین سگنل دے دیا تھا۔ یہ پیش رفت 2018 میں واشنگٹن کی جانب سے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے بعد سامنے آئی۔

مذکورہ ذرائع کے مطابق ان میں سے زیادہ تر جہاز اُن کمپنیوں کی ملکیت تھے جن کو ریاست ایران میں چلا رہی ہے۔ تاہم ان میں شام کو تیل پہنچانے سے متعلق بحری جہاز بھی شامل تھے۔

رواں ماہ جولائی کے اوائل میں ایک بڑا تیل بردار جہاز (گریس 1) جبل طارق کے علاقے میں پہنچا جہاں اسے برطانوی بحریہ نے حراست میں لے لیا۔ اس جہاز پر شام کے خلاف پابندیوں کی خلاف ورزی کا شبہہ ہے۔ جبل طارق میں حکام نے بتایا کہ یہ تیل بردار جہاز اپنی پوری گنجائش کے ساتھ تیل لے کر مبینہ طور پر شام کی بانیاس ریفائنری کی جانب رواں دواں تھا۔

یہ تیل بردار جہاز جبل طارق پہنچا تو اس پر پاناما میں رجسٹرڈ نام موجود تھا۔ تاہم بعد میں پاناما کی حکومت نے بتایا کہ وہ 29 مئی کو اس جہاز کو اپنی اندراجی فہرست سے حذف کر چکی ہے۔

پاناما میں تجارتی سمندری نقل و حمل کے ڈائریکٹر جنرل رافائیل سیجارویسٹا نے ای میل کے ذریعے رائٹرز کو بھیجے گئے بیان میں بتایا کہ پاناما پرچم ہٹانے کی پالیسی جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارا مقصد بین الاقوامی پابندیوں کے نظام اور سمندری سیکورٹی سے متعلق پاناما کے قواعد و ضوابط کے تحت اپنے بیڑے کے تناسب کو بہتر بنانا ہے"۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند