تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران تیل کی برآمد ہر صورت جاری رکھے گا: جواد ظريف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 17 ربیع الثانی 1441هـ - 15 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 11 ذیعقدہ 1440هـ - 14 جولائی 2019م KSA 10:59 - GMT 07:59
ایران تیل کی برآمد ہر صورت جاری رکھے گا: جواد ظريف
جنیوا ۔ ایجنسیاں

ایرانی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں بتایا ہے کہ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ہفتے کے روز اپنے برطانوی ہم منصب جیریمی ہنٹ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

بیان کے مطابق ظریف نے ہنٹ کو آگاہ کر دیا کہ ایران ہر صورت اپنے تیل کی برآمدات جاری رکھے گا۔ ظریف نے مزید کہا کہ برطانیہ کو تیل بردار جہاز گریس 1 کو جلد آزاد کرنا ہو گا۔

ادھر جیرمی ہنٹ نے ٹویٹر پر بتایا کہ انہوں نے جود ظریف کو آگاہ کر دیا ہے کہ اگر تہران یہ ضمانت پیش کرے کہ تیل بردار جہاز شام نہیں جائے گا، تو برطانیہ اس جہاز کی آزادی کو آسان بنائے گا۔

اس سے قبل برطانوی وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ تہران "گریس 1" تیل بردار جہاز کا مسئلہ حل کرنے کا خواہاں ہے اور وہ معاملے کو بڑھانا نہیں چاہتا ہے۔

ہنٹ نے ہفتے کے روز واضح کیا کہ اگر انہیں یہ ضمانت مل جائے کہ جبل طارق کی عدالت میں قانونی اقدامات کے بعد مذکورہ تیل بردار جہاز شام کا رخ نہیں کرے گا تو جہاز کی آزادی آسان ہو جائے گی۔ ہنٹ کے مطابق انہوں نے ظریف کے ساتھ بات چیت میں ایرانی وزیر خارجہ کو اس بات کا اطمینان دلایا کہ لندن کے لیے اہم امر گریس 1 تیل بردار جہاز کے تیل کا ذریعہ نہیں بلکہ جہاز کی منزل ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کی امریکا روانگی

دوسری جانب ایرانی کی ایک نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اقوام متحدہ میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے ہفتے کے روز نیویارک روانہ ہو گئے۔

ایجنسی کے مطابق ظریف اقوام متحدہ کے زیر انتظام اقتصادی اور سماجی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے بعد وینزویلا، بولیویا اور نیکارگوا جائیں گے۔

ظریف کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کی شدت انتہا پر ہے۔

امریکا یہ الزام عائد کر چکا ہے کہ خلیج میں حالیہ عرصے میں تیل بردار جہازوں پر ہونے والے حملوں میں ایران کا ہاتھ ہے۔ گذشتہ ماہ ایران کی جانب سے ایک امریکی ڈرون طیارہ مار گرائے جانے کے بعد دونوں ممالک فوجی تصادم کے دہانے پر پہنچ چکے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتقامی کارروائی کا حکم جاری کر دیا تھا تاہم پھر آخری لمحے میں ایران پر فضائی حملوں کو منسوخ کر دیا۔

امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچن نے جون میں کہا تھا کہ واشنگٹن ایران کے سینئر عہدے داران پر پابندیاں عائد کرے گا جن میں وزیر خارجہ جواد ظریف بھی شامل ہیں۔

تاہم اس معاملے سے مطلع دو ذرائع نے جمعرات کے روز واضح کیا کہ امریکا نے فی الحال ظریف پر پابندیاں نہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اس جانب اشارہ ہے کہ بظاہر امریکا سفارتی کوششوں کے لیے دروازہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔

امریکی صدر نے گذشتہ سال آٹھ مئی کو جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کا اعلان کیا تھا۔ اس سمجھوتے پر 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں نے دستخط کیے۔ سمجھوتے کا مقصد ایرانی جوہری پروگرام پر قدغن لگانا تھی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند