تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
خواتین سے اچھا برتاؤ،طالبان کے وعدے محض ڈھونگ ہیں: جنرل پراسیکیوٹر قندھار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: پیر 12 ذیعقدہ 1440هـ - 15 جولائی 2019م KSA 01:10 - GMT 22:10
خواتین سے اچھا برتاؤ،طالبان کے وعدے محض ڈھونگ ہیں: جنرل پراسیکیوٹر قندھار
زینب فائز: بشکریہ نیویارک ٹائمز
العربیہ ڈاٹ نیٹ

زینب فائز افغان صوبے قندھار میں پہلی اور واحد پراسیکیوٹر جنرل کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

وہ اب تک 21 افراد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔ ان افراد پر بیویوں یا منگیتروں کے ساتھ مار پیٹ کرنے اور ان پر حملوں کے الزامات تھے۔

تاہم کچھ عرصہ قبل زینب کو، جنھوں 29 سال کی عمر میں خود کو اپنے ملک کی خواتین کے دفاع کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا تھا، ایسی دھمکی ملی جس کو وہ نظر انداز نہ کر سکیں اور صوبے کو چھوڑ کر چلی گئیں۔

یہ دھمکی ایک کاغذ پر قلم بند کی گئی تھی جسے زینب کے گھرانے کی گاڑی کی ونڈ اسکرین پر لپیٹ کر چسپاں کر دیا گیا تھا۔ کاغذ کو موڑنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے اندر ایک گولی چھپی ہوئی تھی۔

قندھار کی پراسیکیوٹر

امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کے مطابق دھمکی آمیز پیغام میں کہا گیا کہ "اب سے تم ہمارے نشانے پر ہو گی۔ ہم عن قریب تمہارے ساتھ مغربی غلاموں والا معاملہ کریں گے"۔ اس پیغام پر "اسلامی امارت افغانستان" کے دستخط تھے۔ افغان طالبان تحریک خود کو یہ ہی نام دیتی ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں 2001 میں امریکا کی قیادت میں حملے اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد آزادی کے دروازہ کھلنے سے متعدد افغان خواتین نے فائدہ اٹھایا۔ یہ خواتین اس بات کی خواہش مند نہیں کہ طالبان تحریک کی حکومت واپس آئے اور انھیں اپنی روز مرہ کی عام زندگی سے دور ہونا پڑے۔

زینب اس وقت دارالحکومت کابل میں ایک رشتے دار کے گھر میں اپنے بچوں کے ہمراہ رہ رہی ہیں۔

یاد رہے کہ زینب فائز طالبان تحریک کے ہاتھوں بہت سے مسائل سے دوچار ہو چکی ہیں۔ اس وجہ سے انہیں اس امر میں ذرہ برابر شک نہیں کہ افغان عورت کے ساتھ ان کے اچھے برتاؤ کے وعدے محض ڈھونگ اور سراب ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق زینب کا کہنا ہے کہ "مجھے اپنی زندگی میں اس طرح کا خوف اور دہشت پہلے کبھی محسوس نہ ہوا"۔

زینب فائز

زینب فائز 1990 میں افغانسان کے دور دراز صوبے غور میں پیدا ہوئیں جب ملک میں خانہ جنگی عروج پر تھی۔ ہوش سنبھالنے کے بعد انھوں نے طالبان حکومت کا یہ مرکزی ہدف دیکھا کہ لڑکیوں کے لیے اسکول اور خواتین کے لیے ملازمت ممنوع ہے۔

خلاف ورزی کا ارتکاب کرنے والوں کو سنگساری اور کوڑوں کی سزا کا سامنا ہوتا تھا۔ طالبان حکومت کے سقوط کے بعد زینب نے کابل یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور بطور وکیل فارغ التحصیل ہوئیں۔

سال 2016 میں وہ طالبان کے گڑھ قندھار میں اُن مردوں کے خلاف عدالتی کارروائی میں شریک ہوئیں جنہوں نے خواتین کے ساتھ خراب معاملہ کیا تھا۔

انہوں نے دو پولیس افسران سمیت متعدد مردوں کو متعلقہ الزامات کے تحت جیل بھجوایا۔گذشتہ برس افغان حکومت نے زینب فائز کو ملک کی 5 بہادر ترین خواتین میں سے ایک تسلیم کیا۔ ان کی تصویر قندھار کے وسط میں ایک سائن بورڈ پر آویزاں کر دی گئی۔ تصویر کو "خواتین کے حقوق کی چیمپین" کا ٹائٹل دیا گیا۔

زینب کی ساکھ پورے افغانستان میں بلندی پر پہنچ گئی۔ ان کی شخصیت مزید افغان خواتین کی حوصلہ افزائی کا سبب بنی کہ وہ اپنے ساتھ پیش آنے والے خراب معاملے کی اطلاع دینے کے لیے آگے بڑھیں۔

زینب ایک کمرے کے فرش پر بیٹھی نظر آئیں اور انہوں نے اپنے سامنے دھمکیوں کے وہ تمام پیغامات رکھے ہوئے تھے جو انہیں مختلف صورتوں میں موصول ہوئے تھے۔ ان ذرائع میں کاغذ، آڈیو ریکارڈنگز، ای میل، واٹس ایپ اور ایس ایم ایس شامل ہے۔ ان دھمکیوں میں زینب کو اپنے کام سے دست بردار ہونے اور گھر میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے کئی ماہ تک کام جاری رکھا اور ان دھمکیوں کی کسی خاطر میں نہ لائیں۔

رواں سال فروری میں زینب کے ایک ساتھی عزام احمد کو نا معلوم مسلح افراد نے اُس وقت موت کی نیند سلا دیا جب وہ اپنے کام پر جا رہے تھے۔ فائز اور عزام نے گھریلو تشدد سے متعلق کئی مقدمات میں مل کر تحقیق کا کام انجام دیا تھا۔

زینب کے مطابق عزام ایک نہایت دلیر انسان اور ان کے بہترین دوستوں میں سے تھا۔اس کے کئی ہفتے بعد طالبان کی جانب سے دھمکی کا پیغام اور گولی زینب کی گاڑی کی ونڈ اسکرین پر نمودار ہو چکی تھی۔

زینب کہتی ہیں کہ " طالبان آخر طالبان ہیں، وہ کبھی کسی چیز کے لیے نہیں بدلیں گے۔ وہ اپنے اور لوگوں کے سامنے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ کس قسم کے انسان ہیں اور ان کا حقیقی نظریہ کیا ہے۔ اگر انہوں نے اسی ذہنیت اور طرز فکر کے ساتھ آئندہ ملک پر حکم رانی کی تو جلد ہی تاریخ معمولی تبدیلی کے بغیر خود کو پھر سے دہرائے گی"۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند