تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
روسی میزائل کی ڈیل کے سائے میں ایردوآن کا ٹرمپ کی جانب التفات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 12 ذیعقدہ 1440هـ - 15 جولائی 2019م KSA 13:40 - GMT 10:40
روسی میزائل کی ڈیل کے سائے میں ایردوآن کا ٹرمپ کی جانب التفات
دبئی – العربیہ نیوز چینل

روس کے ساتھ میزائلوں کی ڈیل کے سبب امریکا کی جانب سے انقرہ کو دی جانے والی پابندیوں کی دھمکیوں کے حوالے سے ترکی کا نیا موقف سامنے آ رہا ہے۔

روسی میزائل سسٹم کی اولین کھیپوں کے ترکی کے حوالے کیے جانے کے آغاز کے بعد ترک صدر رجب طیب ایردوآن اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ پر نظر التفات ڈال رہے ہیں۔

ایردوآن نے ٹرمپ کو یاد دلایا ہے کہ دونوں ملکوں کے بیچ تجارتی تبادلے کا معاملہ زیر بحث آ رہا ہے جس کا حجم 100 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ F-35 ماڈل کے 100 جدید لڑاکا طیاروں کی خریداری کی درخواست پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ ایردوآن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ کے پاس اختیار ہے کہ وہ ان پابندیوں کو عائد ہونے سے روک دیں، امریکی صدر پر لازم ہے کہ وہ اس اختلاف میں درمیان کا کوئی حل تلاش کریں۔

ترکی کے صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلومبرگ نیوز ایجنسی اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ ترکی پر امریکی پابندیوں کے پیکج کا آئندہ چند روز میں اعلان کر دیا جائے گا۔ ایجنسی کے مطابق ترکی کی معیشت کو نقصان پہنچانے والی یہ پابندیاں تین مرحلوں میں تقسیم ہوں گی۔

امریکی وزارت دفاع پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ ایک ہی علاقے میں کام کرنے کی صورت میں S-400 میزائل سسٹم امریکی F-35 لڑاکا طیاروں کے لیے خطرہ ہوں سکتے ہیں۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان میں جی – 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر ایردوآن سے ملاقات کے دوران ترکی کے موقف کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انقرہ ماسکو سے S-400 میزائل سسٹم کی خریداری پر اس لیے مجبور ہوا کیوں کہ سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے ترکی کو پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند